حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُعَانٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ ، قَالَ : " وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " , قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنْ يَدْخُلُهُ ، قَالَ : " الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جب الحزن» ( غم کی وادی ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! «جب الحزن» کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے “ ، پھر صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” ریاکار قراء ( اس میں داخل ہوں گے ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2383
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (256) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (52) أتم من هنا وفي نسخة " القراء "، المشكاة (275) ، ضعيف الجامع الصغير (2460) // , شیخ زبیر علی زئی: (2383) إسناده ضعيف / جه 256, عمار بن سيف : ضعيف الحديث عابد (تق:4826) وشيخه أبو معان مجهول (تق:8375)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (256) ( تحفة الأشراف : 14586) (ضعیف) (سند میں ’’ ابو معان ‘‘ یا ’’ ابو معاذ ‘‘ مجہول راوی ہے، اور ’’ عمار بن سیف ‘‘ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 5023، و 5152)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 256 | مشكوة المصابيح: 275

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ریا و نمود اور شہرت کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " «جب الحزن» (غم کی وادی) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو "، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: " جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے "، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: " ریاکار قراء (اس میں داخل ہوں گے)۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2383]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’ابومعان‘‘ یا ’’ابومعاذ‘‘ مجہول راوی ہے، اور ’’عمار بن سیف‘‘ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: 5023، و 5152)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2383 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 275 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ریا کار علماء اور قاری`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ؟ قَالَ: «وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّم كل يَوْم أَرْبَعمِائَة مرّة» . قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهَا قَالَ: «الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَكَذَا ابْنُ مَاجَهْ وَزَادَ فِيهِ: «وَإِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الْقُرَّاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الَّذِينَ يَزُورُونَ الْأُمَرَاءَ» . قَالَ الْمُحَارِبِيُّ: يَعْنِي الجورة . . .»
". . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "غم کے کنوئیں سے تم اللہ کی پناہ مانگو۔ " لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! غم کا کنواں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دوزخ میں ایک وادی نالہ ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔" لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کون داخل ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن پڑھنے والے جو اپنے عملوں کو لوگوں کو سیکھانے کے لیے کرتے ہیں۔" اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ برے وہ قاری لوگ ہیں جو ظالم امیروں سے ملتے ہیں۔ یعنی ریا نمود کے پڑھنے والے ایسے وحشت ناک کنوئیں میں سزا پائیں گے جس کا بیان حدیث میں ہے اسی لیے ہر کام میں اخلاص ضروری ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 275]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس سند میں دو وجہ ضعف ہیں: ➊ عمار بن سیف الضبی الکوفی ضعیف راوی تھا۔
حافظ ابن حجر نے فرمایا: «ضعيف الحديث عابد»
"وہ حدیث میں ضعیف (اور) عبادت گزار تھا۔" [تقريب التهذيب: 4826]
➋ عمار بن سیف کا استاد ابومعان یا ابومعاذ البصری مجہول تھا۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 275 سے ماخوذ ہے۔