حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اچھے انسان کی صحبت سے اچھائی اور برے انسان کی صحبت سے برائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے کسی سے دوستی کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ دوست دیندار ہو ورنہ بری صحبت تباہی کا باعث ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2378
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (927) ، المشكاة (5019)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 19 (4833) ( تحفة الأشراف : 14625) ، و مسند احمد (2/303، 334) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4833

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2378]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ اچھے انسان کی صحبت سے اچھائی اوربرے انسان کی صحبت سے برائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے کسی سے دوستی کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہئے کہ دوست دیندارہو ورنہ بری صحبت تباہی کا باعث ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2378 سے ماخوذ ہے۔