سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِهِ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : " مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ ، وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکی ( یا میز ) پر کھانا کبھی نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی باریک آٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کر گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث سعید بن ابی عروبہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6450 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6450. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے کبھی دسترخوان (میز) پر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور نہ فوت ہونے تک آپ نے کبھی باریک چپاتی ہی تناول فرمائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6450]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اور آپ کے اہل و عیال نے دو دن متواتر جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر کھائی ہو، اسی طرح باریک چپاتی بھی کبھی نہیں کھائی، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی: ’’اے اللہ! آل محمد کی روزی حسبِ ضرورت ہو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6460)
یعنی روزی صرف اس قدر ہو کہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی حال تھا، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی۔
انہوں نے آپ کو دعوت دی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے لیکن آپ نے پیٹ بھر گندم کی روٹی نہیں کھائی۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5416)
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے اور آپ کے اہل و عیال نے دو دن متواتر جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر کھائی ہو، اسی طرح باریک چپاتی بھی کبھی نہیں کھائی، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی: ’’اے اللہ! آل محمد کی روزی حسبِ ضرورت ہو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6460)
یعنی روزی صرف اس قدر ہو کہ زندگی کا نظام چلتا رہے۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی حال تھا، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی۔
انہوں نے آپ کو دعوت دی تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے لیکن آپ نے پیٹ بھر گندم کی روٹی نہیں کھائی۔
(صحیح البخاري، الأطعمة، حدیث: 5416)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6450 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5386 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5386. سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی ﷺ نے کبھی چھوٹی پیالی میں کھانا کھایا ہو اور آپ کے لیے روٹی ہی پکائی جاتی تھی، نیز آپ نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا (راوئ حدیث) سیدنا قتادہ سے کسی نے سوال کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس پر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ نیچے بچھے ہوئے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5386]
حدیث حاشیہ: میز پر کھانا درست ہے مگر طریقہ سنت کے خلاف ہے، اسلام میں سادگی ہی محبوب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5386 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5386 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5386. سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی ﷺ نے کبھی چھوٹی پیالی میں کھانا کھایا ہو اور آپ کے لیے روٹی ہی پکائی جاتی تھی، نیز آپ نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا (راوئ حدیث) سیدنا قتادہ سے کسی نے سوال کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کس پر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ نیچے بچھے ہوئے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5386]
حدیث حاشیہ:
(1)
"سكرجه" اس پیالی کو کہتے ہیں جس میں ہاضمے کے لیے جوارش وغیرہ رکھی جاتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کھانا کھاتے تھے، اس لیے ہاضمے کے لیے جوارش کی ضرورت ہی نہ پڑتی تھی، نیز اس قسم کے برتن متکبر لوگ استعمال کرتے تھے، اس طرح میز وغیرہ کا استعمال بھی مال داروں کے ہاں تھا۔
(2)
ہمارے رجحان کے مطابق میز پر کھانا تناول کرنا جائز ہے لیکن سنت طریقہ یہ ہے کہ دستر خوان نیچے بچھا کر کھانا کھایا جائے۔
واللہ أعلم
(1)
"سكرجه" اس پیالی کو کہتے ہیں جس میں ہاضمے کے لیے جوارش وغیرہ رکھی جاتی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم کھانا کھاتے تھے، اس لیے ہاضمے کے لیے جوارش کی ضرورت ہی نہ پڑتی تھی، نیز اس قسم کے برتن متکبر لوگ استعمال کرتے تھے، اس طرح میز وغیرہ کا استعمال بھی مال داروں کے ہاں تھا۔
(2)
ہمارے رجحان کے مطابق میز پر کھانا تناول کرنا جائز ہے لیکن سنت طریقہ یہ ہے کہ دستر خوان نیچے بچھا کر کھانا کھایا جائے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5386 سے ماخوذ ہے۔