حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ العَلاءِ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثًا تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " , هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ نے مسلسل تین دن تک گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3343)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأطعمة 23 (5414) نحوہ) ، صحیح مسلم/الزہد 1 (2976) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 48 (3343) ( تحفة الأشراف : 13440) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5414 | صحيح مسلم: 2976 | سنن ابن ماجه: 3338 | سنن ابن ماجه: 3343

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5414 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5414. سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی انہوں نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کبھی جو کی روٹی بھی آپ نے پیٹ بھر کر نہ کھائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5414]
حدیث حاشیہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اس کا کھانا گوارا نہ کیا اورچونکہ یہ ولیمہ کی دعوت نہ تھی اس لیے اس کا قبول کرنا بھی ضروری نہ تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5414 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5414 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5414. سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہوا جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی ہوئی تھی انہوں نے آپ کو دعوت دی تو آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن کبھی جو کی روٹی بھی آپ نے پیٹ بھر کر نہ کھائی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5414]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ خیال کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دنیوی معیشت میں کس قدر تنگی تھی، اس لیے آپ نے بھنی ہوئی بکری کھانے سے انکار کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یاد کر کے اسے کھانا گوارا نہ کیا۔
(2)
چونکہ یہ دعوتِ ولیمہ نہ تھی، اس لیے اس کا قبول کرنا ضروری نہ تھا کیونکہ دعوت ولیمہ بلا وجہ رد کرنے کی ممانعت ہے۔
(فتح الباري: 681/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5414 سے ماخوذ ہے۔