سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ، يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين يوم القيامة» ” یااللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول ! ایسا کیوں ؟ آپ نے فرمایا : ” اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے ، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی ، عائشہ ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے قربت اختیار کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين يوم القيامة» ” یااللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا “، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا: ” اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2352]
وضاحت:
1؎:
یا اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا۔
2؎:
اس حدیث میں تواضع کے اپنانے اورکبرونخوت سے دوررہنے کی ترغیب ہے، ساتھ ہی فقراء مساکین سے محبت اوران سے قربت اختیارکرنے کی تعلیم ہے۔