سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفَقْرِ باب: فقر کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ " قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ ، فَقَالَ : " انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ " قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا , فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ " .´عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو “ ، اس نے پھر کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : ” جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو “ ، اس نے پھر کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، اسی طرح تین دفعہ کہا تو آپ نے فرمایا : ” اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو فقر و محتاجی کا ٹاٹ تیار رکھو اس لیے کہ جو شخص مجھے دوست بنانا چاہتا ہے اس کی طرف فقر اتنی تیزی سے جاتا ہے کہ اتنا تیز سیلاب کا پانی بھی اپنے بہاؤ کے رخ پر نہیں جاتا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ” جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو “، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ” جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو “، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اسی طرح تین دفعہ کہا تو آپ نے فرمایا: ” اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو فقر و محتاجی کا ٹاٹ تیار رکھو اس لیے کہ جو شخص مجھے دوست بنانا چاہتا ہے اس کی طرف فقر اتنی تیزی سے جاتا ہے کہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2350]
نوٹ:
(سند میں (جابر بن عمرو ابو الوازع) وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اور اسی لیے یہ منکر حدیث روایت کردی، دیکھیے: الضعیفة رقم: 1681)