سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ " قَالَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ : قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : أَقْدَمُهُمْ سِنًّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , وَمَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ , وَعَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا : أَحَقُّ النَّاسِ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، وَقَالُوا : صَاحِبُ الْمَنْزِلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا أَذِنَ صَاحِبُ الْمَنْزِلِ لَغَيْرِهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ وَقَالُوا : السُّنَّةُ أَنْ يُصَلِّيَ صَاحِبُ الْبَيْتِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، فَإِذَا أَذِنَ فَأَرْجُو أَنَّ الْإِذْنَ فِي الْكُلِّ ، وَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا إِذَا أَذِنَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ .´ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو ، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے ، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے ، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے ، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابومسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوسعید ، انس بن مالک ، مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں امامت کا حقدار وہ ہے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) اور سنت کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو ۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ گھر کا مالک خود امامت کا زیادہ مستحق ہے ، اور بعض نے کہا ہے : جب گھر کا مالک کسی دوسرے کو اجازت دیدے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن بعض لوگوں نے اسے بھی مکروہ جانا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ گھر کا مالک خود پڑھائے ۱؎ ، ۴- احمد بن حنبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : ” آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے “ کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ اجازت دیدے تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اجازت مسند پر بیٹھنے اور امامت کرنے دونوں سے متعلق ہو گی ، انہوں نے اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں جانا کہ جب وہ اجازت دیدے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 235]
1؎:
ان لوگوں کی دلیل مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت ((مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلاَ يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ)) ہے ((إِلَّا بِإِذْنِهِ)) کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق صرف ((لَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ)) سے ہے ((لَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ)) سے نہیں ہے۔
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) سب سے زیادہ یاد ہو، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو ۱؎، اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے ۲؎، اور اگر سنت (کے جاننے) میں بھی برابر ہوں تو جو ان میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ ۳؎ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دیدے “ ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 781]
➋ امام کی نہ کسی فضیلت میں مقتدیوں سے زائد ہونا چاہیے، علم ہو یا مرتبہ یا عمر۔ ہجرت بھی مرتبہ اور فضیلت میں اضافے کا موجب ہے۔
➌ اس درجہ بندی سے معلوم ہوا کہ جو حفظ و قرأت میں مقدم ہو اور اسے قرآن مجید زیادہ یاد ہو، امامت کے لیے اسے ہی آگے کیا جائے گا۔ جو صرف عالم دین ہو، سنت کی معرفت زیادہ رکھتا ہو، اس کا درجہ قاریٔ قرآن کے بعد ے، بشرطیکہ وہ نماز کے واجبات و ارکان سے واقف ہو۔ اگر یہ اہلیت نہ رکھتا ہو تو اسے اس کی تربیت دی جائے کیونکہ امامت کا زیادہ حق دار وہی ہے۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن سلمہ کے قبیلے کے افراد کو بھی اس بات کی تلقین کی تھی، حالانکہ افرادِ قبیل ان سے أعلم (علم میں فائق) تھے اور عمر میں بھی بڑے، چونکہ عمرو بن سلمہ چھ سات سال کے تھے، اس لیے بڑوں نے پلے ان کی تربیت کی اور بعد ازاں امامت کے لیے آگے کیا۔ یاد رہے! دیگر کچھ مقاصد کے پیش نظر صرف عالم دین کو بھی امامت کے لیے آگے کیا جا سکتا ہے، نیز یہ مسئلہ وہاں قابل عمل ہے جہاں کسی کا باقاعدہ تقرر نہ ہو، یعنی اگر کسی کی باقاعدہ امام کی حیثیت سے نماز پڑھانے کی ذمہ داری ہو تو اسی کو مقدم کیا جائے گا۔ ہاں، یہ ضروری ہے کہ اس عظیم منصب کے لیے کسی صاحب علم و دین اور حافظ قرآن ہی کا انتخاب کیا جائے۔
➍ کسی کی سلطنت و امامت والی جگہ میں بلا اجازت امامت منع ہے۔ جب وہ خود اجازت دے یا درخواست کرے تو امامت بھی کرا سکتا ہے اور اس کی مسند پر بیٹھ بھی سکتا ہے، جیسے استاد و شاگرد۔ بعض حضرات نے اجازت کی قید صرف مسند پر بیٹھنے کے لیے قرار دی ہے گویا امامت اجازت کے ساتھ بھی نہیں کرا سکتا مگر یہ بات صحیح نہیں اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اس کی تائید ہوتی ہے بلکہ بعض مواقع پر ناقابل عمل بھی ہے، مثلاً: تراویح وغیرہ میں حافظ، امامت وقت کی امامت کرا سکتا ہے۔
(1)
سِلْم: اسلام لانا، مسلمان ہونا۔
سلطان سیادت وحکومت۔
(2)
تَكْرِمَتِه: اس کی عزت وتکریم کی جگہ، کسی کی مسند۔
یعنی مستقل امام کی اجازت کے بغیر اس کی جگہ پر امامت نہیں کروائی جا سکتی اور کسی کے گھر اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا نہیں جا سکتا۔
فوائد ومسائل: عہد نبوی میں فضیلت کا مدار دین و تقوی تھا اس لیے سب سے پہلا معیار فضیلت قرآن مجید کے ساتھ شغف و تعلق تھا۔
نماز کی امامت کے لیے زیادہ اہل اور موزوں وہ شخص ہے۔
جو کتاب اللہ کے ساتھ شغف وربط میں دوسروں سے فائق ہو فضیلت کا دوسرا معیار سنت کا علم ہے اور ظاہر ہے اگر أقرأہ سے مراد کتاب اللہ کا علم رکھنے والا ہو تو پھر جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو گا۔
وہی قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہو گا کیونکہ سنت ہی قرآن کی شراح اور مفسر ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو قرآن پڑھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اس کے حقائق و معارف اور اس پر عمل کا طریقہ بھی بتاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تیسرا معیار فضیلت ہجرت میں مقدم ہونا تھا اب یہ چیز باقی نہیں رہی اس لیے علماء نے اس کی جگہ صلاح و تقوی میں فوقیت و برتری کو تیسرا معیار قراردیا ہے ترجیح کا چوتھا معیار آپ نے اس میں پہلے اسلام لانے کو قراردیا ہے اور اگلی حدیث میں عمر میں بزرگی کو معیار قراردیا ہے یعنی اس کو مسلمان ہوئی زیادہ عرصہ ہو چکا ہو خلاصہ کلام یہ ہے کہ جماعت میں جو شخص سب سے بہتر اور افضل ہو اس کو امام بنایا جائے آج کل اس اہم ہدایت سے تغافل برتا جا رہا ہے اس لیے امت میں بہت سی خرابیوں نے راہ بنا لی ہے اور امت کا شیراز بکھر گیا۔
ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی «تکرمہ» (مسند وغیرہ جو اس کی عزت کی جگہ ہو) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے۔“ شعبہ کا بیان ہے: میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا: آدمی کا «تکرمہ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا «فراش» یعنی مسند (اس کا بستر) وغیرہ۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 582]
➊ ہمارے اس دور میں حافظ، قاری اور عالم ہونے کے خاص معیار متعارف ہو گئے ہیں۔ حالانکہ سلف کے ہاں یہ فرق معروف نہ تھے۔ حافظ حضرات ایک حد تک «مُجَوِّد» اور صاحب علم بھی ہوتے تھے اور ان کا لقب ”قاری“ ہوتا تھا چونکہ نماز کا تعلق قرآن مجید کی قرات کے ساتھ ساتھ دیگر اہم مسائل سے بھی ہے۔ اس لئے ایسا شخص افضل ہے، جو حافظ اور عالم ہو۔ صرف حافظ ہونا فضیلت ہے افضلیت نہیں۔
➋ اس حدیث کی دوسری روایت میں قاری کے بعد ”سنت کے عالم“ کا درجہ بیان ہوا ہے۔
➌ ہجرت کی فضیلت صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ہی کے ساتھ مخصوص تھی، کسی دوسرے شخص کے حلقہ عمل میں بلا اجازت امامت کرانا (اور ضمناً فتوے دینے شروع کر دینا) شرعاً ممنوع ہے، ایسے ہی اس کی خاص مسند (نشست یا بستر) پر بلا اجازت بیٹھنا بھی منع ہے۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو لوگوں میں قرآن زیادہ جانتا ہو، اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو امامت وہ کرے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ۱؎، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو امامت وہ کرے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو، اور کوئی شخص کسی شخص کے گھر والوں میں اور اس کے دائرہ اختیار و منصب کی جگہ میں امامت نہ کرے ۲؎، اور کوئی کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پہ بغیر اس کی اجازت کے نہ بیٹھے “ ۳؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 980]
فوائد مسائل: (1)
امامت کا زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو دوسروں سے افضل ہو اور افضلیت کا معیار نہ مال ودوولت ہے نہ خاندان اور قبیلہ بلکہ دین کا علم افضلیت کا میعار ہے۔
(2)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین قرآن مجید کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے مفہوم اور مسائل سے بھی آگاہی حاصل کرتے تھے اس لئے جسے قرآن زیادہ یاد ہوتا تھا۔
وہ علم میں بھی برتر ہوتا تھا۔
(3)
دینی علوم میں سب سے اہم علم قرآن مجید کا علم ہے۔
اس کے بعد سنت نبوی ﷺ اور حدیث شریف کا مرتبہ ہے۔
جو قرآن مجید کی تشریح ہے۔
(4)
قرآن کا عالم اگر عمر میں چھوٹا ہو تب بھی بڑی عمر والوں کی نسبت امامت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں اپنے قبیلے کی امامت کراتے تھے۔
کیونکہ انھیں قرآن زیادہ یاد تھا۔
اسوقت ان کی عمر آٹھ سال تھی۔ (سنن نسائي الإمامة، باب إمامة الغلام قبل ان یحتلم حدیث: 790 وسنن ابی داؤد، الصللاۃ، باب من أحق بالإمامة؟ حدیث: 585)
(5)
جو شخص امامت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
اس کی اجازت یا فرمائش پر دوسرا آدمی امام بن سکتاہے۔
(6)
مخصوص نشست سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کا کوئی شخص اپنے منصب ومرتبے کے مطابق بیٹھنے کا حق رکھتا ہے۔
یا گھر میں جہاں وہ عام طور پر بیٹھا کرتا ہے۔
مثلاً کسی سرکاری ملازم اور عہدیدار کے دفتر میں اس کی خاص کرسی یاگھر میں کسی بزرگ کے بیٹھنے کی خاص جگہ وہاں دوسرے آدمی کو بلا اجازت نہیں بیٹھنا چاہیے۔
کیونکہ یہ بڑوں کے احترام کے منافی ہے۔
البتہ اگر صاحب حق اجازت دے تو وہاں بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث میں امام کس کو بنایا جائے، اس کی تفصیل ہے، امام کی اہم صفت یہ ہونی چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث میں ماہر ہو، قرآن کے ساتھ ساتھ اس کو متعلقہ علوم و فنون میں بھی ماہر ہونا چاہیے اور باعمل بھی ہونا چاہیے۔