حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ نَفَضَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اور اولاد سے ہلکا پھلکا ہو ، نماز میں جسے راحت ملتی ہو ، اپنے رب کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرنے والا ہو ، اور خلوت میں بھی اس کا مطیع و فرماں بردار رہا ہو ، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہا ہو کہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا ، اور اس کا رزق بقدر «کفاف» ہو پھر بھی اس پر صابر رہے ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور فرمایا : ” جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو “ ۔

وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا ، قُلْتُ : لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا ، أَوْ قَالَ ثَلَاثًا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ ، وَإِذَا شَبِعْتُ شَكَرْتُكَ وَحَمِدْتُكَ " , قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وفي الباب عن فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَالْقَاسِمُ هَذَا هُوَ : ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَيُكْنَى : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَيُقَالُ أَيْضًا : يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ شَامِيٌّ ثِقَةٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ , وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسی سند سے مزید روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے رب نے مجھ پر اس بات کو پیش کیا کہ مکہ کی کنکریلی زمین کو سونا بنا دے لیکن میں نے کہا : نہیں اے میرے رب ! میں تو چاہتا ہوں کہ ایک دن آسودہ رہوں اور ایک دن بھوکا “ ، یا فرمایا : ” تین دن “ ، یا اسی کے مانند کچھ اور فرمایا : ” پس جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرے لیے عاجزی اور مسکنت ظاہر کروں گا اور تجھے یاد کروں گا ، اور جب آسودہ رہوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد بجا لاؤں گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں فضالہ بن عبید سے بھی روایت ہے ، اور قاسم یہ قاسم بن عبدالرحمٰن ہیں جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ، یہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، شامی ہیں ، ثقہ ہیں ، ۳- علی بن یزید حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ان کی کنیت ابوعبدالملک ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2347
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5189 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1397) // , شیخ زبیر علی زئی: (2347) إسناده ضعيف, علي بن يزيد وتلميذه ضعيفان (تقدما: 1282)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4909) (ضعیف) (یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، عبیداللہ بن زحرعن علی بن یزید عن القاسم سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی 364)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4117 | مسند الحميدي: 933

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 933 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
933- سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میرے ساتھیوں میں قدرو منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آجائے، تواس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔" [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:933]
فائدہ:
اس حدیث سے نیک گمنامی کو پسند کر نے والے غریب انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔