سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مِنْهُ باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2342
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1 , قَالَ : يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا : ” ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال ، میرا مال ، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎ ، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آدمی اس مال کو اپنا مال سمجھتا ہے جو اس کے پاس ہے حالانکہ حقیقی مال وہ ہے جو حصول ثواب کی خاطر اس نے صدقہ کر دیا، اور یوم جزاء کے لیے جسے اس نے باقی رکھ چھوڑا ہے، باقی مال کھا پی کر اسے ختم کر دیا یا پہن کر اسے بوسیدا اور پرانا کر دیا، صدقہ کئے ہوئے مال کے علاوہ کوئی مال آخرت میں اس کے کام نہیں آئے گا، اس حدیث میں مستحقین پر اور اللہ کی پسندیدہ راہوں پر خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ” ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2342]
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ” ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2342]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ آدمی اس مال کو اپنامال سمجھتاہے جو اس کے پاس ہے حالانکہ حقیقی مال وہ ہے جو حصول ثواب کی خاطراس نے صدقہ کردیا، اور یوم جزاء کے لیے جسے اس نے باقی رکھ چھوڑا ہے، باقی مال کھا پی کراسے ختم کردیا یا پہن کراسے بوسیدا اورپرانا کردیا، صدقہ کئے ہوئے مال کے علاوہ کوئی مال آخرت میں اس کے کام نہیں آئے گا، اس حدیث میں مستحقین پراوراللہ کی پسندیدہ راہوں پرخرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
وضاحت:
1؎:
مطلب یہ ہے کہ آدمی اس مال کو اپنامال سمجھتاہے جو اس کے پاس ہے حالانکہ حقیقی مال وہ ہے جو حصول ثواب کی خاطراس نے صدقہ کردیا، اور یوم جزاء کے لیے جسے اس نے باقی رکھ چھوڑا ہے، باقی مال کھا پی کراسے ختم کردیا یا پہن کراسے بوسیدا اورپرانا کردیا، صدقہ کئے ہوئے مال کے علاوہ کوئی مال آخرت میں اس کے کام نہیں آئے گا، اس حدیث میں مستحقین پراوراللہ کی پسندیدہ راہوں پرخرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2342 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2959 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بندہ کہتا ہے میرا مال،میرا مال اس لیے تو اس کے مال سے صر ف تین چیزیں ہیں۔جو اس نے کھایا اور فنا کردیا،جو پہنا اور بوسیدہ کردیا،یاجو کسی کو دےکر آخرت کے لیے)ذخیرہ کرلیا۔اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ(بندہ جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7422]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اقتني: جمع کرلیا، ذخیرہ بنالیا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، حدیث میں مذکور تین مدوں کے سوا جو مال وہ جمع کرتا ہے، وہ در حقیقت اس کا نہیں ہے، بلکہ ان وارثوں کا ہے جن کے لیے وہ اس کو چھوڑجانے والا ہے۔
اقتني: جمع کرلیا، ذخیرہ بنالیا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، حدیث میں مذکور تین مدوں کے سوا جو مال وہ جمع کرتا ہے، وہ در حقیقت اس کا نہیں ہے، بلکہ ان وارثوں کا ہے جن کے لیے وہ اس کو چھوڑجانے والا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2959 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3354 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ” زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا “ (التکاثر: ۱)، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ” ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے (اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3354]
شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ” زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا “ (التکاثر: ۱)، تلاوت فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ” ابن آدم میرا مال، میرا مال کہے جاتا ہے (اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3354]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا (التکاثر: 1)
2؎:
یعنی: ابن آدم کا حقیقی مال وہی ہے جو اس نے راہ خدا میں خرچ کیا، یا خود کھایا پیا اور پہن کر بوسیدہ کر دیا، اور باقی جانے والا مال تو اس کا اپنا مال نہیں بلکہ اس کے وارثین کا مال ہے۔
وضاحت:
1؎:
زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا (التکاثر: 1)
2؎:
یعنی: ابن آدم کا حقیقی مال وہی ہے جو اس نے راہ خدا میں خرچ کیا، یا خود کھایا پیا اور پہن کر بوسیدہ کر دیا، اور باقی جانے والا مال تو اس کا اپنا مال نہیں بلکہ اس کے وارثین کا مال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3354 سے ماخوذ ہے۔