حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيِ اللَّهِ ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے ، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہو کہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو خواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2340
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا، ابن ماجة (4100) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (894) ، المشكاة (5301 / التحقيق الثاني) ، ضعيف الجامع الصغير (3194) // , شیخ زبیر علی زئی: (2340) إسناده ضعيف جداً / جه 4100, عمرو بن واقد : متروك (تق: 5132) وقال الهيثمي : وقد ضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 286/10)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 1 (4100) ( تحفة الأشراف : 11925) (ضعیف جداً) (سند میں عمرو بن واقد متروک الحدیث راوی ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4100

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دنیا سے بے رغبتی کا بیان۔`
ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہو کہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو خواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2340]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمرو بن واقد متروک الحدیث راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2340 سے ماخوذ ہے۔