سنن ترمذي
كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
باب مَا جَاءَ فِي طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2329
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: عمر لمبی ہو گی اور عمل اچھا ہو گا تو نیکیاں زیادہ ہوں گی، اس لیے یہ مومن کے حق میں بہتر ہے، اس کے برعکس اگر عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں تو یہ اور برا معاملہ ہو گا، «أعاذنا الله منه» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2329]
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2329]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عمر لمبی ہوگی اور عمل اچھا ہوگا تو نیکیاں زیادہ ہوں گی، اس لیے یہ مومن کے حق میں بہتر ہے، اس کے برعکس اگر عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں تو یہ اور برا معاملہ ہوگا، '' أعاذنا الله منه۔
وضاحت:
1؎:
عمر لمبی ہوگی اور عمل اچھا ہوگا تو نیکیاں زیادہ ہوں گی، اس لیے یہ مومن کے حق میں بہتر ہے، اس کے برعکس اگر عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں تو یہ اور برا معاملہ ہوگا، '' أعاذنا الله منه۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2329 سے ماخوذ ہے۔