حدیث نمبر: 2303
وَبَيَانُ هَذَا فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ ، وَيَحْلِفُ الرَّجُلُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ " ، وَمَعْنَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " هُوَ عِنْدَنَا إِذَا أُشْهِدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّيْءِ أَنْ يُؤَدِّيَ شَهَادَتَهُ وَلَا يَمْتَنِعَ مِنَ الشَّهَادَةِ ، هَكَذَا وَجْهُ الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے اچھے اور بہتر لوگ ہمارے زمانے والے ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ آدمی گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے گا ، اور قسم کھلائے بغیر قسم کھائے گا “ ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ سب سے بہتر گواہ وہ ہے ، جو گواہی طلب کیے بغیر گواہی دے تو اس کا مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب کسی سے کسی چیز کی گواہی ( حق بات کی خاطر ) دلوائی جائے تو وہ گواہی دے ، گواہی دینے سے باز نہ رہے ، بعض اہل علم کے نزدیک دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2303
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 2165 (صحیح)»