حدیث نمبر: 2300
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا ، فَقَالَ : " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ سورة الحج آية 30 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ ، وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی ، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے “ ، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ” اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے ، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ، اور مشہور صحابی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2300
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ** , شیخ زبیر علی زئی: (2300) إسناده ضعيف, / د 3599، جه 2372 وانظر الحديث السابق: 2299
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الأحکام 32 (2372) (ضعیف) (سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3599 | سنن ابن ماجه: 2372

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جھوٹی گواہی کی مذمت کا بیان۔`
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الشهادات/حدیث: 2300]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زیاد عصفری اور حبیب بن نعمان دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2300 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3599 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جھوٹی گواہی دینے کی برائی کا بیان۔`
خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی: «فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر (سورۃ الحج: ۳۰)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3599]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت اگرچہ سندا ضعیف ہے۔
لیکن جھوٹ اور جھوٹی گواہی کی مذمت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
جھوٹی گواہی کبائر میں شمار ہوتی ہے۔
(صحیح البخاري، الشھادات، حدیث: 2653)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3599 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2372 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جھوٹی گواہی دینے کا بیان۔`
خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے ، یہ جملہ آپ نے تین بار دہرایا، پھر آیت کریمہ: «واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به» جھوٹ بولنے سے بچو، اللہ کے لیے سیدھے چلو، اس کے ساتھ شرک نہ کرو (سورة الحج: ۳۰-۳۱) کی تلاوت فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2372]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہےلیکن یہ بات صحیح ہے کہ جھوٹی گواہی کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس کےبارے میں متعدد صحیح احادیث موجود ہیں۔
نبئ اکرم ﷺنےجن تین گناہوں کوکبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ قرار دیا ہے وہ اللہ کےساتھ شرک کرنا‘والدین کی نافرمانی اورجھوٹی گواہی ہیں۔ دیکھیے (صحیح البخاري، الشھادات، باب ماقيل فی شھادۃ الزور، حدیث: 2653، 2654)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2372 سے ماخوذ ہے۔