سنن ترمذي
كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خواب کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2290
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ ، وَأَوَّلْتُهَا وَبَاءَ الْمَدِينَةِ يُنْقَلُ إِلَى الْجُحْفَةِ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں روایت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی ( مهيعه ، جحفه کا دوسرا نام ہے ) ، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی ( بخار والی ) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7040 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7040. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں ایک کالی عورت کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ مدینہ طیبہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ طیبہ کی وبا مہیعہ یعنی حجفہ منتقل کر دی گئی جائے گی۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7040]
حدیث حاشیہ: قال المھلب ھذہ الرؤیا المعبرة وھي مما ضرب المثیل ووجه التمثیل أنه شق من اسم السوداء و الداء فتاول خروجھا بما جمع اسمھا (فتح الباري)
یعنی مہلب نے کہا کہ خواب خود تعبیر کردہ شدہ ہے۔
اس میں سوداء نامی سیاہ عورت کو دیکھا گیا جو لفظ سوء یعنی برائی اور داء بمعنی بیماری ہے پس اس کا نام ہی ایسا ہے جس سے خود تعبیر ظاہر ہے۔
بری بیماری مدینہ سے نکل کر حجفہ نامی بستی میں چلی گئی جو مدینہ سے چھ میل دور ہے اس بستی کی آب وہوا آج تک خراب اور مرطوب ہے اور الحمد اللہ مدینہ منورہ کی آب وہوا بہت عمدہ اور صحت بخش ہے۔
یعنی مہلب نے کہا کہ خواب خود تعبیر کردہ شدہ ہے۔
اس میں سوداء نامی سیاہ عورت کو دیکھا گیا جو لفظ سوء یعنی برائی اور داء بمعنی بیماری ہے پس اس کا نام ہی ایسا ہے جس سے خود تعبیر ظاہر ہے۔
بری بیماری مدینہ سے نکل کر حجفہ نامی بستی میں چلی گئی جو مدینہ سے چھ میل دور ہے اس بستی کی آب وہوا آج تک خراب اور مرطوب ہے اور الحمد اللہ مدینہ منورہ کی آب وہوا بہت عمدہ اور صحت بخش ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7040 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7040 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7040. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں ایک کالی عورت کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ مدینہ طیبہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ مدینہ طیبہ کی وبا مہیعہ یعنی حجفہ منتقل کر دی گئی جائے گی۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7040]
حدیث حاشیہ:
1۔
اہل تعبیر نے کہا کہ خواب میں ایسی چیز دیکھنا جو ہر طرف سے سیاہ ہوا انتہائی مکروہ ہے اور بالوں کی پراگندگی سے بخار کی کیفیت مراد ہے کیونکہ اس سے بدن میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے بالخصوص سیاہ عورت کے پراگندہ بال تو انتہائی وحشت ناک ہوتے ہیں۔
(فتح الباري: 532/12)
2۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت بخار ہوا۔
اس وقت وادی بطحان مین ایک گندا بودار نالہ بہتا تھا جس کی بنا پر مدینہ طیبہ ان دنوں وبائی امراض کی لپیٹ میں تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس کی فضا مرطوب اور خوشگوار ہو گئی اور وبائی امراض اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے حجفہ منتقل ہو گئیں۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
1۔
اہل تعبیر نے کہا کہ خواب میں ایسی چیز دیکھنا جو ہر طرف سے سیاہ ہوا انتہائی مکروہ ہے اور بالوں کی پراگندگی سے بخار کی کیفیت مراد ہے کیونکہ اس سے بدن میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے بالخصوص سیاہ عورت کے پراگندہ بال تو انتہائی وحشت ناک ہوتے ہیں۔
(فتح الباري: 532/12)
2۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم جب ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت بخار ہوا۔
اس وقت وادی بطحان مین ایک گندا بودار نالہ بہتا تھا جس کی بنا پر مدینہ طیبہ ان دنوں وبائی امراض کی لپیٹ میں تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس کی فضا مرطوب اور خوشگوار ہو گئی اور وبائی امراض اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے حجفہ منتقل ہو گئیں۔
(صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7040 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7039 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7039. حضرت سالم بن عبداللہ بن حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مدینہ کے متعلق آپ ﷺ کا خواب بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایک پراگندہ بالوں والی کالی عورت دیکھی جو مدینہ طیبہ سے نکلی اور مہیعہ میں جاکر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ طیبہ کی وبا مہیعہ یعنی حجفہ منتقل ہوگئی ہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7039]
حدیث حاشیہ:
1۔
مہلب نے کہا ہے کہ یہ خواب خود تعبیر شدہ ہے کیونکہ لفظ سوداء سے اس کی تعبیر ماخوذ ہے یعنی لفظ سوراء اور داء بری بیماری کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اس لفظ سے خواب کی تعبیر ظاہر ہو رہی ہے۔
بری بیماری مدینہ طیبہ سے نکل کر جحفہ نامی بستی میں چلی گئی۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ!مدینہ ہمارے لیے خوشگوار اور محبوب بنا دے اور اس کے وبائی امراض جحفہ منتقل کر دے۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
2۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ان دنوں مدینہ طیبہ وبائی امراض کی لپیٹ میں تھا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد مدینہ طیبہ کی آب و ہوا خوشگوار ہو گئی۔
(فتح الباري: 532/12)
1۔
مہلب نے کہا ہے کہ یہ خواب خود تعبیر شدہ ہے کیونکہ لفظ سوداء سے اس کی تعبیر ماخوذ ہے یعنی لفظ سوراء اور داء بری بیماری کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اس لفظ سے خواب کی تعبیر ظاہر ہو رہی ہے۔
بری بیماری مدینہ طیبہ سے نکل کر جحفہ نامی بستی میں چلی گئی۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’اے اللہ!مدینہ ہمارے لیے خوشگوار اور محبوب بنا دے اور اس کے وبائی امراض جحفہ منتقل کر دے۔
‘‘ (صحیح البخاري، فضائل المدینة، حدیث: 1889)
2۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ان دنوں مدینہ طیبہ وبائی امراض کی لپیٹ میں تھا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد مدینہ طیبہ کی آب و ہوا خوشگوار ہو گئی۔
(فتح الباري: 532/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7039 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3924 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´خواب کی تعبیر کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ آ کر رکی، اور وہ جحفہ ہے، پھر میں نے اس کی تعبیر مدینے کی وبا سے کی جسے جحفہ منتقل کر دیا گیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3924]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ آ کر رکی، اور وہ جحفہ ہے، پھر میں نے اس کی تعبیر مدینے کی وبا سے کی جسے جحفہ منتقل کر دیا گیا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3924]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شروع میں مدینہ کی آب و ہوا اچھی نہ تھی۔
اللہ تعالی نے خواب کے ذریعے سےا پنے نبی ﷺ کو خوشخبری دی کہ مدینہ سے وبا ختم ہوجائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
(2)
خواب میں بد صورت انسان سے مراد بیماری یا مصیبت اور خوبصورت انسان سے مراد راحت و نعمت ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
شروع میں مدینہ کی آب و ہوا اچھی نہ تھی۔
اللہ تعالی نے خواب کے ذریعے سےا پنے نبی ﷺ کو خوشخبری دی کہ مدینہ سے وبا ختم ہوجائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
(2)
خواب میں بد صورت انسان سے مراد بیماری یا مصیبت اور خوبصورت انسان سے مراد راحت و نعمت ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3924 سے ماخوذ ہے۔