سنن ترمذي
كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خواب کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا ، فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” میں نے دیکھا کہ لوگ ( ایک کنویں پر ) جمع ہو گئے ہیں ، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے ، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا ، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو ، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی “ ( یعنی سب آسودہ ہو گئے ۱؎ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے صحیح غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے بارے میں مروی ہے جس میں آپ نے ابوبکر اور عمر کو دیکھا، آپ نے فرمایا: " میں نے دیکھا کہ لوگ (ایک کنویں پر) جمع ہو گئے ہیں، پھر ابوبکر نے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ ان کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ڈول کھینچا تو وہ ڈول بڑے ڈول میں بدل گیا، میں نے کسی مضبوط اور طاقتور شخص کو نہیں دیکھا جس نے ایسا کام کیا ہو، یہاں تک کہ لوگوں نے اپنی آرام گاہوں میں جگہ پکڑی " (یعنی سب آسودہ ہو گئے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2289]
وضاحت: 1 ؎: اس سے مرادعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی مضبوط خلافت وامارت کادورہے۔
1۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خواب بیان ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب وحی ہوتا تھا اس کی تعبیر خلافت و امارات کا عمل ہے۔
پانی نکالنا لوگوں کے لیے اجتماعی خدمات سر انجام دینا ہے۔
خلافت کا عمل حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو یا تین سال کیا۔
ان کے دور خلافت میں داخلی انتشار کی وجہ سے فتوحات نہ ہو سکیں جس کی طرف کمزوری کی صورت میں اشارہ کیا گیا ہے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عمل کو سنبھالا تو انھوں نے پوری قوت کے ساتھ اس عمل کو سر انجام دیا فتوحات ہوئیں۔
اسلامی حکومت خوب وسیع ہوئی مال غنیمت سے لوگوں میں آسودگی آئی اور داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہوا۔
2۔
اس خواب میں واضح اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا عمل حضرت ابو بکر چلائیں گے۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس منصب پر فائز ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
1۔
کنویں سے مراد دین کی طرف اشارہ ہے کہ جو حیاتِ نفوس کا منبع ہے اور جس سے معاش ومعاد سب کے معاملات پورے ہوتے ہیں۔
2۔
ضعف سے فتنہ ارتداد کی طرف اشارہ ہے جو ابوبکر ؓ کے دورخلافت میں ظاہر ہوا،جس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ انھوں نے استقامت کاپہاڑ بن کر ان فتنوں کا مقابلہ کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے ان کی نرم مزاجی کی طرف اشارہ ہو کہ و ہ سخت گیر نہ تھے۔
3۔
بہرحال اس کمزوری کے باوجود انھوں نے حضرت عمر ؓ سے پہلے ڈول سنبھالا،اس سے حضرت عمر ؓ پر ان کی فوقیت ثابت ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث میں شیخین کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے امور کو کنویں سے تشبیہ دی ہے۔
چونکہ لوگوں کی زندگی کا انحصار اور ان کی بقا کا سبب پانی ہے اور لوگوں کا پانی پلانا ان کے امور کی اصلاح اور ان کے مصالح کا انتظام کرنا ہے،حضرت عمر ؓ کے دورخلافت میں اسلام کی بہت ترقی ملی فتوحات ہوئیں جن کے نتیجے میں لوگ خوشحال ہوئے۔
آپ کے زمانہ خلافت میں عدل وانصاف کا خوب چرچا ہوا۔
بہرحال حضرت ابوبکر ؓ کے مقابلے میں ان کا دور حکومت بہت طویل تھا۔
فتوحات ہونے کے باوجود اختلاف کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملا جیسا کہ حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں ہوا،بالآخر حضرت عثمان ؓ کی شہادت اسی اختلاف کے نتیجے میں ہوئی۔
2۔
حدیث کے آخری الفاظ کہ لوگ بھی سیراب ہوئے اور انھوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کیا،ان میں حضرت عمرفاروق ؓ کی خلافت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان کے دور میں اسلام کو وسعت ہوئی اور لوگوں کو آرام اورسکون ملا۔
اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کی منقبت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث میں مذکور کسی لفظ کی مناسبت سے قرآنی الفاظ کی لغوی تشریح کردیتے ہیں،چنانچہ آپ نے لفظ عبقری کی لغوی تشریح کی ہے اگرچہ حدیث میں اس سے مراد ماہر،تجربہ کار اور قوم کا سردار ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
بدلو بكرة: چرخی کا ڈول ہے۔
(2)
بكرة: اس چرخی کو کہتے ہیں، جس پر ڈول لٹکایا جاتا ہے اور اگر کاف پر سکون پڑھیں تو جوان اونٹ کو کہتے ہیں، مراد ہو گا، اونٹوں کو پانی پلانے کا ڈول۔
(3)
يفري فريه: ان کی طرح کاٹتا، کیونکہ فَري کا معنی ہوتا ہے، اصلاح اور بہتری کی خاطر کاٹنا، مراد ہے بہترین طور پر کام کرنا۔