سنن ترمذي
كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خواب کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيزَانَ وَالدَّلْوَ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ : إِنَّهُ كَانَ صَدَّقَكَ ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُهُ فِي الْمَنَامِ ، وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ وَلَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَكَانَ عَلَيْهِ لِبَاسٌ غَيْرُ ذَلِكَ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِالْقَوِيِّ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ ( ورقہ بن نوفل ) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے ، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے ، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- محدثین کے نزدیک عثمان بن عبدالرحمٰن قوی نہیں ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ (ورقہ بن نوفل) کے بارے میں پوچھا گیا تو خدیجہ نے کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی مگر وہ آپ کی نبوت کے ظہور سے پہلے وفات پا گئے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے خواب میں انہیں دکھایا گیا ہے، اس وقت ان کے جسم پر سفید کپڑے تھے، اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے جسم پر کوئی دوسرا لباس ہوتا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2288]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں دلیل ہے کہ اگرکوئی مسلمان خواب میں اپنے کسی مرے ہوئے مسلمان بھائی کے جسم پرسفید کپڑا دیکھے تو یہ اس کے حسن حال کی پیشین گوئی ہے کہ وہ جنتی ہے، ورقہ بن نوفل خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچیرے بھائی تھے انہو ں نے آپ ﷺ کا حال سن کرآپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اورکہا تھا کہ جوفرشتہ تمہارے پاس آتا ہے وہ ناموس اکبرہے، اپنے بڑھاپے پرافسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرمیں زندہ رہا تواس وقت آپ کا ساتھ ضروردوں گا جس وقت آپ کی قوم آپ کوگھرسے نکال دے گی۔
نوٹ:
(سند میں عثمان بن عبد الرحمن متروک الحدیث راوی ہے، خود متن سے بھی اس حدیث کا منکر ہونا واضح ہے)