حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ : " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ ، فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ ، فَرَجَحَ عُمَرُ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ “ ایک آدمی نے کہا : میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا ، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے ، ابوبکر اور عمر تولے گئے ، تو ابوبکر بھاری نکلے ، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا ، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: ناگواری کا سبب یہ تھا کہ میزان کے اٹھا لیے جانے کا مفہوم یہ نکلا کہ عمر رضی الله عنہ کے بعد فتنوں کا آغاز ہو جائے گا، «واللہ اعلم» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2287
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (6057 / التحقيق الثانى) , شیخ زبیر علی زئی: (2287) إسناده ضعيف / د 4634
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ السنة 9 (4634) ( تحفة الأشراف : 11662) ، و مسند احمد (5/44، 50) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4634

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا خواب میں ترازو اور ڈول دیکھنے کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2287]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ناگواری کا سبب یہ تھا کہ میزان کے اٹھا لیے جانے کا مفہوم یہ نکلا کہ عمرکے بعد فتنوں کا آغاز ہو جائے گا، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2287 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4634 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خلفاء کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ایک شخص بولا: میں نے دیکھا: گویا ایک ترازو آسمان سے اترا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4634]
فوائد ومسائل:

وزن کیا جانا خواب میں ایک تمثیل تھی جس کے معنی واضح ہیں کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ساری امت کے مقابلے میں افضل واعلی اور بھاری ہیں بلکہ سابقہ امتیں بھی ہیچ ہیں۔
اسی طرح جلیل القدر صحابہ میں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کوئی افضل نہیں۔
ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہکا درجہ ہے۔
اگرچہ یہ اور دیگر صحابہ اپنے اپنے انفرادی فضائل ومناقب میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں، مگر مجموعی اعتبار سے یہی نتیجہ ہے جو بیان ہوا اور امت کا یہی عقیدہ ہے۔


ترازو اٹھائے جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا بدل جانا غالباً اس وجہ سے تھا کہ اس کے بعد فتنے سر اٹھانے والے تھے۔
جیسے کہ فی الواقع واقعات نے ثابت کیا ہے۔
والله اعلم۔
بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4634 سے ماخوذ ہے۔