سنن ترمذي
كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خواب کے آداب و احکام
باب فِي تَأْوِيلِ الرُّؤْيَا وَمَا يُسْتَحَبُّ مِنْهَا وَمَا يُكْرَهُ باب: خوابوں کی تعبیر اور اچھے برے خواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ : فَرُؤْيَا حَقٌّ ، وَرُؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَمَنْ رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ : " يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ : " مَنْ رَآنِي فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِي " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ يَقُولُ : " لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ " ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، وَأُمِّ الْعَلَاءِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خواب تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک خواب وہ ہے جو سچا ہوتا ہے ، ایک خواب وہ ہے کہ آدمی جو کچھ سوچتا رہتا ہے ، اسی کو خواب میں دیکھتا ہے ، اور ایک خواب ایسا ہے جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم و صدمہ کا سبب ہوتا ہے ، لہٰذا جو شخص خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اٹھ کر نماز پڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے : ” مجھے خواب میں بیڑی کا دیکھنا اچھا لگتا ہے اور طوق دیکھنے کو میں ناپسند کرتا ہوں ، بیڑی کی تعبیر دین پر ثابت قدمی ( جمے رہنا ) ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے : ” جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو وہ میں ہی ہوں ، اس لیے کہ شیطان میری شکل نہیں اپنا سکتا ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ” خواب کسی عالم یا خیرخواہ سے ہی بیان کیا جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں انس ، ابوبکرہ ، ام العلاء ، ابن عمر ، عائشہ ، ابوموسیٰ ، جابر ، ابو سعید خدری ، ابن عباس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آیت غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ میں ہاتھوں کی بیڑیاں مذکور ہیں۔
1۔
قرب قیامت کے وقت مومن انسان کا کوئی غمخوار نہیں ہوگا تو اچھے خوابوں کے ذریعے سے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
2۔
اس حدیث میں خواب کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
نفسانی خیالات: بیداری کے وقت جو خیالات ذہن میں ہوں وہی خواب میں سامنے آ جاتے ہیں۔
شیطانی خواب: شیطان در اندازی کر کے انسان کو پریشان اور فکر مند کرتا ہے۔
بشارت: اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور خوشخبری ہوتی ہیں اور باعث خیرو برکت قرار دے جاتے ہیں۔
3۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے چند ایک دوسرے خواب ذکر کیے ہیں۔
مثلاً: شیطان کا کھیلنا: جیسا کہ آدمی بے تکے خواب دیکھے کہ اس کا سر کٹا ہوا ہے اور وہ آدمی اس کٹے ہوئے سر کے پیچھے بھاگتا ہے۔
اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطانی کھیل قرار دیا ہے۔
انسانی عادت: انسان روٹی کھاتے کھاتے مر گیا تو حسب عادت وہ خواب میں روٹی کھائے گا یا بھوکا سویا ہے توخواب میں قے کرتا ہوا نظر آئے گا۔
مزاج کا مدد جزر: اگر کوئی شخص خود کو پانی میں تیرتا یا برف دیکھتا ہے تو ایسا بلغم کے اضافے کی وجہ سے ہو گا۔
یعنی اخلاط (بدن کی چار رطوبتیں جو غذا تحلیل ہونے سے پیدا ہوتی ہیں)
کی کمی بیشی بھی خواب پر اثر انداز ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 12/509)
4۔
بہر حال خواب میں طوق دیکھنا اچھا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل جہنم کی صفت قرار دیا ہے اور پاؤں میں بیڑی کو پسند کیا گیا ہے کہ اس سے انسان چل پھر نہیں سکتا۔
گویا نا فرمانی، گناہوں اور باطل سے رک جانےکی طرف اشارہ ہے۔
واللہ أعلم۔
اس سے مراد دن اور رات کا موسم بہار میں تقریبا برابر برابر ہونا ہے، جب کہ انسان کی چاروں خلطیں، خون، بلغم، سودا اور سفراء کے اعتدال و توازن کی وجہ سے طباع میں اعتدال ہوتا ہے تو خواب بھی سچے نظر آتے ہیں۔
1۔
جب وقوع قیامت کا زمانہ قریب آجائے گا، اصحاب علم و فضل بہت کم رہ جائیں گے۔
فتنہ و فساد کے باعث دین کے آثار اور امتیازات مت جائیں گے اور مسلمان دینی معلومات کے محتاج ہوں گے تو ایسے حالات میں سچے خوابوں کے ذریعہ ان کی رہنمائی کی جائے گی۔
2۔
قرب قیامت کی بنا پر جب زمانہ بہت تیزی سے گزرے گا، سال، مہینہ کے برابر محسوس ہو گا اور ماہ، ہفتہ کے برابر ہو گا اور ہفتہ ایک دن کی طرح گزر جائے گا۔
3۔
مہدی علیہ السلام کے نزول کے سبب دنیا میں عدل و انصاف اور امن و سکون برپا ہو گا اور رزق کی فروانی اور خشحالی کی بنا پر، گزرنے والے دنوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔
4۔
عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رہنے والے لوگ، جن میں آپس میں پیارو محبت ہو گا، عداوت و نفرت ختم ہو جائے گی اور وہ سچ بولیں گے، ان کے خواب بھی سچے ہوں گے اور ان کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا، کیونکہ جب کاد پر نفی داخل ہو تو اس سے مراد بالکلیہ نفی ہوتی ہے کہ یہ نہیں ہوگا، اس لیے لم تکدرؤیا المسلم تکذب کا معنی ہو گا۔
صحیح مسلمانوں کا کوئی خواب جھوٹا نہیں ہوگا، اصدقكم رُويا اصدقكم حديثا تم میں سے سچے خواب انہیں کے ہوں گے، جو سچ بولتے ہوں گے، کیونکہ سچا مسلمان جھوٹ نہیں بولتا، اس لیے اس کا دل روشن ہوتا ہے اور علم و شعور اور آگاہی کا ملکہ صحیح ہوتا ہے، اس لیے اس پر صحیح باتوں کا عکس پڑتا ہے، جھوٹے کا دل فاسد اور سیاہ ہوتا ہے، اس لیے اس پر معانی اور مطالب کا صحیح عکس نہیں پڑتا، اس لیے اس کا خواب بھی عموما پراگندہ خیالی پر مبنی ہوتا ہے، سچے انسان کا خواب بہت کم پراگندہ خیالی کا شکار ہوتا ہے۔
رويا المسلم جزء من خمس واربعين جزأ من النبوة صحیح مسلمان کا خواب نبوت کو پینتالیسواں حصہ ہے، عام روایات کی رو سے چھیالیسواں حصہ ہے، بعض کی رو سے سترھواں حصہ ہے، بعض روایات میں اس سے کم و بیش حصے آئے ہیں اور بقول حافظ ابن حجر رحمُہ اللہ اس میں پندرہ اقوال آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا نبی بہت سی صفات سے متصف ہوتا ہے اور اس کی ایک صفت یہ بھی ہے، اس کو سچے خواب نظر آتے ہیں، جن کے ذریعہ اس کو کس چیز کا قطعی اور یقینی علم دے دیا جاتا ہے اور اب بھی بعض سچے مسلمانوں کو خواب کے ذریعہ صحیح معلومات سے آگاہ کر دیا جاتا ہے، لیکن اس میں قطعیت اور یقین نہیں ہوتا اور خواب دیکھنے والے کے اعتبار سے اس کے اندر یقین ووثوق کی نسبت بدلتی رہتی ہے، اس لیے آپ نے بھی مختلف نسبتیں بیان کی ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کسی کے اندر، اگر نبوت کا کوئی وصف کمی و بیشی کے ساتھ پایا جاتا ہے تو وہ نبی نہیں بن جاتا، بعج حیوانوں میں انسان کی بعض صفات پائی جاتی ہیں تو وہ انسان نہیں بن جاتے، جس طرح بعض انسانوں میں حیوانی صفات پائی جاتی ہیں تو وہ حیوان نہیں بن جاتے اور عام طور پر علماء نے چھیالیسویں حصہ کو ترجیح دی ہے، کیونکہ آپ کے تئیس سال دور نبوت سے پہلے، چھ ماہ آپ کو سچے خواب نظر آتے رہے ہیں، پھر وہی کا آغاز ہوا، اس طرح خوابوں کی نسبت چھیالیسواں حصہ ٹھہرے۔
'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۲؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے "۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2270]
وضاحت:
1؎:
زمانہ قریب ہو نے کا مطلب تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے: پہلا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد قرب قیامت ہے اور اس وقت کا خواب کثرت سے صحیح اورسچ ثابت ہوگا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد دن اور رات کا برابرہونا ہے، تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد زمانہ کا چھوٹا ہونا ہے یعنی ایک سال ایک ماہ کے برابر، ایک ماہ ہفتہ کے برابراورایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک گھڑی کے برابرہوگا۔
2؎:
اس کے دومفہوم ہوسکتے ہیں: پہلا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اورسچ ہوتا ہے، دوسرامفہوم یہ ہے کہ ابتدائی دور میں چھ ما ہ تک آپ کے پاس وحی خواب کی شکل میں آتی تھی، یہ مدت آپ کی نبوت کے کامل مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے اس طرح سچاخواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔
3؎:
کیونکہ طوق پہننے سے اشارہ قرض داررہنے، کسی کے مظالم کا شکاربننے اورمحکوم علیہ ہونے کی جانب ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو (خواب میں)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5019]
کسی پریشان کن اور بُرےخواب دیکھنے کی صورت میں اس کی نحوست سے بچنے کےلئے انسان کو تعوذ پڑھتے ہوئے اپنی بایئں طرف تھوکنا اور پہلو بھی بدل لینا چاہیے۔
اور سب سے افضل یہ ہے کہ انسان نماز پڑھے۔
اور خواب کسی سے بیان نہ کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں خواب میں گلے میں زنجیر اور طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں، اور پاؤں میں بیڑی دیکھنے کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3926]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے اور دیگر محققین نے ضعیف قراردیا ہے۔
اس روایت کی بابت اکثر محققین کی رائے ہے کہ یہ روایت مرفوعاً ضعیف ہے موقوفاً صحیح ہے جیساکہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں بلکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ضعیف سن ابن ماجة، رقم: 784 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 3926)
(2)
حافظ ابن حجر حمة الله عليہ نے امام قرطبی ؒ کا قول نقل فرمایا ہے کہ جس کے پاؤں میں بیڑی ہو وہ ایک جگہ ٹھرا رہتا ہے اس لیے اگر دین دار نیک آدمی خواب میں اپنے پاؤں میں بیڑی دیکھتا ہے تو اس کا مطلب اس کا نیکی اور ہدایت پر قائم رہنا ہی ہوگا۔
اور طوق کا ذکر قرآن میں سزا اور ذلت کے طور پر آیا ہے اس لیے اس سے دین کا نقص گناہ پر اصرار اور کسی حق دار کے حق کی ادائیگی سے گریز یا دنیا کی مشکلات مراد ہوسکتی ہیں۔ دیکھیے: (فتح الباري، التعبير، باب القيد في المنام: 12/ 505)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب قیامت قریب آ جائے گی تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور جو شخص جتنا ہی بات میں سچا ہو گا اتنا ہی اس کا خواب سچا ہو گا، کیونکہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3917]
فوائد و مسائل:
(1)
قیامت کے قریب کفر، فسق اور جہالت کا غلبہ ہوگا۔
سچے مومن بہت کم ہونگے۔
ان مومنوں کے خواب سچے ہوں گے۔
(2)
بعض علماء نے اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا زمانہ لیا ہے البتہ حافظ ابن حجر ؒ نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ (فتح الباري: 12/ 508)
نیک آدمی کے خواب زیادہ سچے ہوتے ہیں۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ مذکورہ روایت کا اکثر حصہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے جیسا کہ تخریج میں ہمارے محقق نے بھی اشارہ کیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف اور معناً صحیح ہے۔
کے بارے میں دو نظریات ہیں، (1)
امام محمد بن سیرین، امام بخاری، قاضی عیاض اور ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے، اس حدیث کا تعلق، اس رویت سے ہے، جس میں خواب دیکھنے والا، آپﷺ کو آپ کی مشہور و معروف شکل و صورت میں دیکھتا ہے۔
(2)
ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے، آپ کے دیدار کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ خواب دیکھنے والا، آپ کو اپنی اصلی معروف اور مشہور شکل و صورت میں دیکھے، اگر دیکھنے والے کو آپ کے ہونے کا یقین ہو جاتا ہے تو آپ کسی بھی شکل و صورت میں نظر آئیں، آپ ہی ہوں گے۔
فقد رآنی: بعض حضرات کے نزدیک، دیکھنے والے نے آپ ہی کی ذات مقدسہ کو دیکھا اور بعض کے نزدیک آپ کی مثال و صورت کو دیکھا اور قاضی ابن العربی مالکی کا خیال ہے، جس نے آپ کو آپ کی معروف صفات میں دیکھا، اس نے آپ کی ذات کو دیکھا، جس نے کسی اور صفت میں دیکھا، اس نے آپ کی مثال اور عکس دیکھا اور بقول امام غزالی، دیکھنے والا، ہر صورت اور ہر حالت میں آپ کے عکس کو دیکھتا ہے، وہ آپ کی روح یا شخصیت نہیں دیکھتا۔
(عمدۃ القاری ج 2 ص 155)
۔
لیکن خواب کی حالت میں آپ اگر کسی چیز کی خبر دیں یا امر اور نہی فرمائیں تو چونکہ اس میں خواب دیکھنے والے کے فہم و فراست اور تخیل کا اثر ہوتا ہے، اس لیے وہ قرآن و سنت کے مطابق ہونے کی صورت میں تو قابل عمل ہو گا اور مخالف ہونے کی صورت میں، اس کا اپنا تخیل اور تصور ہو گا، جیسا کہ ایک آدمی نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خواب میں فرمایا ہے، ’’شراب پیو۔
‘‘ تو امام علی متقی مصنف کنز العمال نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو شراب نہ پیو فرمایا، لیکن شیطان نے تیرے خیال تصور میں، شراب پیو، ڈال دیا، کیونکہ تو شراب پیتا ہے، (فیض الباری ج 1 ص 203)
اور خواب میں آپ کو دیکھنے سے کوئی صحابی بھی نہیں بنے گا، کیونکہ صحابی وہی ہے جس نے آپ کا دیدار، عام دیدار کی طرح آپ کی زندگی میں مسلمان ہونے کی حالت میں کیا ہو، ہاں جس نے آپ کی زندگی میں آپ کو خواب میں دیکھا، اس کو بیداری کی حالت میں آپ کو دیکھنے کا موقعہ مل جائے گا تو وہ صحابی بن جائے گا، سيرانی في اليقظه کا یہی مفہوم ہے۔
لیکن اگر آپ کی زندگی کے بعد خواب میں دیکھا، پھر آپ کو بیداری میں بھی دیکھ لیا، جیسا کہ علامہ آلوسی کا دعویٰ ہے کہ خواب میں زیارت کرنے والوں کو آپ کی زیارت بیداری میں بھی ہوئی۔
(روح المعانی ج 22 طبع 4 ص 36)
تو پھر یہ انسان صحابی نہیں ہو گا۔
امام شعرانی نے لکھا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رفقاء کے ساتھ بیداری میں صحیح بخاری پڑھی ہے۔
(فیض الباری ج 1 ص 214)
۔
لیکن عجیب بات ہے، بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خواب میں انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور بعد میں انہیں بیداری میں زیارت ہوئی اور جن امور میں وہ پریشان تھے، انہوں نے ان امور سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور آپ نے ان کی تشویش دور فرمائی اور ان امور کی اچھی طرح وضاحت فرمائی، جبکہ صورت حال یہ ہے، خلفائے راشدین اہل بیت صحابہ کرام اور فقہاء و تابعین، ائمہ اربعہ بہت سے امور میں آپس میں مخالف تھے، بعض جگہ معاملہ نے طول بھی پکڑا، لیکن آپ بیداری میں کسی کو نہیں ملے، نہ آپ نے ان کے اختلاف کو دور فرمایا اور ان کی راہنمائی کی، کم از کم آپ، حضرت فاطمہ کا حضرت ابوبکر سے وراثت کے مسئلہ میں اختلاف حل فرماتے، جنگ جمل اور جنگ صفین میں مسلمانوں کی راہنمائی فرماتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی اور حضرت معاویہ کو اس مشکل سے نکلنے کی صورت بتاتے، قاتلین عثمان کا قضیہ حل کر دیتے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفیوں کی بے وفائی سے آگاہ فرماتے، ان عزیز و اقارب اور رفقاء سے تو ملاقات نہیں فرمائی لیکن بعد والوں سے باعث فہم گفتگو کر کے ان کی پریشانی دور فرماتے رہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5023]
نبی ﷺ کا یہ خاصہ ہے۔
کہ شیطان آپ کی شکل نہیں اختیار کرسکتا۔
البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسری شکل دیکھا کر ایسا وہم دلائے کہ یہ رسول اللہﷺ ہیں۔
تو اس لئے ضروری ہے کہ انسان اس دیکھی ہوئی شکل کا موازنہ ان صفات سے کرے۔
جن کا ذکر کتب احادیث میں آیا ہے۔
یا کسی صاحب علم سے اس کی تصدیق حاصل کرے۔
والد مرحوم شیخ عبدالعزیز سعیدی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک بدعتی شخص نے بزعم خویش بڑے زوق وشوق سے بتایا کہ میں نے نبی کریمﷺ کی خواب میں زیارت کی ہے۔
والد صاحب نے تفصیل پوچھی تو بولا کہ میں نے ایک نورانی شخصیت دیکھی جس کی سفید براق ڈاڑھی تھی۔
والد صاحب نے فورًا۔
لاحول ولا قوة إلا باللہ پڑھا اور واضح کیا کہ تم نے کسی شیطان کو دیکھا ہے۔
الغرض خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھنے والا قیامت میں جاگتے ہوئے آپﷺ کو دیکھے گا اور اسے ایک طرح کا خاص قرب حاصل ہوگا۔
ورنہ دیگر اصحاب ایمان بھی تو آپ ﷺ کو دیکھیں گے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک اور اچھے بندے کو بھی گندے سے گندے خواب آ جاتے ہیں، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ واقعہ ضرور پیش آیا ہوگا، تب آپ نے ایسے خوابوں کے بارے میں ارشادات جاری فرمائیں ہوں گے، اور صحابہ سے بڑھ کر کوئی نیک نہیں ہوسکتا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کو یاد کر نے سے برائی جاتی رہتی ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ برا خواب تعبیر بتانے والے کے علاوہ کسی کو نہیں بتانا چاہیے۔