سنن ترمذي
كتاب الرؤيا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: خواب کے آداب و احکام
باب مَا جَاءَ فِي تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا باب: خواب کی تعبیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا ، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، فَقَالَ : عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، وَقَالَ شُعْبَةُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَهُشَيْمٌ : عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ ، وَهَذَا أَصَحُّ .´ابورزین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے ، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن حدس “ کہا ہے جب کہ شعبہ ، ابو عوانہ اور ہشیم نے اسے یعلیٰ بن عطاء سے روایت کرتے ہوئے ” وكيع بن عدس “ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎ "، ابورزین کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا: " خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو۔" [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2278]
وضاحت:
1؎:
یعنی اس خواب کی تعبیرجب تک بیان نہیں کی جاتی یہ خواب معلق رہتا ہے، اس کے لیے ٹھہراؤ نہیں ہوتا، تعبیر آ جانے کے بعد ہی اسے قرارحاصل ہوتا ہے۔
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔" میرا خیال ہے آپ نے فرمایا " اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5020]
محبت کرنے والا مخلص ساتھی خوشی کی خبر میں تمہارے ساتھ خوش ہوگا۔
اور بُری بات سے خاموش رہے گا۔
اور صاحب علم یا تو تعبیر ہی عمدہ کرے گا۔
یا کسی بُرائی سے بچائو کا طریقہ بتائے گا۔
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: " خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندہ کے پیر پر ہوتا ہے، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: " خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے "، اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: " تم خواب کو صرف اسی شخص سے بیان کرو جس سے تمہاری محبت و دوستی ہو، یا وہ صاحب عقل ہو " ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3914]
فوائد و مسائل:
(1)
پرندے کے پنجے میں پکڑی ہوئی چیز گر بھی سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ گرے۔
اسی طرح خواب کی جب تک تعبیر نہ کی جائے تب تک یہ ممکن ہے کہ نہ گرے، اسی طرح خواب کی جب تک تعبیر نہ کی جائے تب تک یہ ممکن ہے کہ خواب میں دیا ہوا اشارہ واقع ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ واقع نہ ہو۔
جب تعبیر کردی جائے پھر اس کا وہی مطلب بن جاتا ہےجو بیان کیا گیا۔
(2)
امام بخاری ؒ بیان کرتے ہیں کہ اگر پہلے تعبیر کرنے والے نے تعبیر میں غلطی کی ہو اور اس کے بعد دوسرا شخص صحیح تعبیرکردے تو دوسری تعبیر ہی معتبر ہوگی۔ (صحيح البخاري، التعبير، باب من لم یرالرؤيا لأول عابر إذا لم يصب، حديث: 7046)
(3)
تعبیر بیان کرنے والا شخص جاہل نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ غلط تعبیر بیان کریگا جو پریشانی کا باعث ہوگی جب کہ عالم اس کا اچھا محمل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا اسی طرح مخلص دوست اچھا مطلب تلاش کرے گاجب کہ اجنبی شخص کے دل میں وہ ہمدردی نہیں ہوگی اس لیے ممکن ہے کہ وہ نامناسب تعبیر بیان کردے۔