سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مِنْهُ باب: جس قوم کی حکمراں عورت ہو گی وہ کامیابی سے ہرگز ہم کنار نہ ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ : عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ : مَنِ اسْتَخْلَفُوا ؟ قَالُوا : ابْنَتَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ ، يَعْنِي الْبَصْرَةَ ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا تھا ، جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو آپ نے پوچھا : ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اس کی لڑکی کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا “ ، جب عائشہ رضی الله عنہا آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد کی ۱؎ ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہو گیا تو آپ نے پوچھا: ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اس کی لڑکی کو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا “، جب عائشہ رضی الله عنہا آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد کی ۱؎، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2262]
وضاحت:
1؎:
اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی، عثمان رضی اللہ عنہ جب شہید کردیے گئے اور علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی، پھر طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں، پھر ان سب کی رائے متفق ہوگئی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں، علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔
الاخری یہ حدیث کسری کو خط لکھنے کا تکملہ ہے کہ کسری کو اس کے بیٹے شیرویہ نے نو ہجری گیارہ جمادی کو قتل کر دیا چھ ماہ تک وہ ایران کا بادشاہ رہا۔
ایک دن خزانے میں اسے ایک دوا کی شیشی ملی جس پر "قوت باہ کی دوا" لکھا ہوا تھا۔
اس میں زہر تھا۔
شیرویہ نے اسے کھایا تو ہلاک ہو گیا۔
اس کے بعد شقوت و بد بختی اس خاندان کا مقدر بن گئی۔
سربراہی کے لیے اس خاندان میں کوئی مرد نہ تھا تو کسری کی پوتی، شیرویہ کی بیٹی بوران کو ملک کا حکمران بنادیا گیا۔
اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس کی حکمران عورت ہو۔
‘‘ حتی کہ حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں اس کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو سر براہ مملکت بنانا جائز نہیں۔
خلاف ورزی کی صورت میں برے انجام سے دوچار ہونا یقینی ہے جیسا کہ پاکستان اس کا دوبار تجربہ کر چکا ہےزنانہ حکومت کی وجہ سے ملک میں جو نحوست پھیلی ہے اس کی ابھی تک تلافی نہیں ہو سکی۔
واللہ المستعان۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کا یہی مطلب ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھڑکانے والے چند منافق قسم کے فسادی لوگ تھے۔
جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے مسلمانوں کو آپ میں لڑانا چاہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اپنا جادو چلا کر ان کو سردار فوج بنا لیا اور جنگ جمل واقع ہوئی، جس میں سراسر منافق یہودی صفت لوگوں کا ہاتھ تھا۔
1۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد جنگ جمل بہت بڑا فتنہ تھی۔
اس میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔
اس معرکے کو جمل اس لیے کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک عسکر نامی اونٹ پر سوار تھیں جسے یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے لیے مہیا کیا تھا۔
2۔
واضح رہے کہ یہ جنگ امر خلافت سے متعلق نہ تھی بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ مطالبہ تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو ان کے کیمپ میں پناہ گزیں تھےاور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف تھا کہ ابھی میری حکومت مستحکم نہیں ہوئی، اس لیے اس معاملے میں کچھ تاخیر کرلی جائے۔
3۔
اگرچہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا بدلہ لینے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہم نوا تھے لیکن وہ جنگ میں شریک نہ ہوئے کیونکہ اس میں قیادت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث کو بنیاد بنا کر انھوں نے کنارہ کشی اختیار کی۔
اس معاملے میں ان کا موقف کسی حد تک درست اور مبنی برحقیقت تھا کیونکہ انھوں نے ان حالات میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ساتھ نہیں دیا۔
واللہ أعلم۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کی وجہ سے روکے رکھا ۱؎ جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، جب کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ نے فرمایا: ” انہوں نے کسے جانشین بنایا؟ “ لوگوں نے کہا: اس کی بیٹی کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے کسی عورت کو حکومت کے اختیارات دے دیے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5390]
(2) عورت کا دائرہ کار مرد کے دائرہ کار سے مختلف ہے۔ عورت کے ذمے گھریلو امور کی نگرانی ہے جب کہ بیرونی امور، مثلاً: کاروبار، ملازمت، حکومت و قضاء وغیرہ مرد کی ذمہ داری ہے۔ پھر جن معاملات میں مرد و عورت کا اختلاط ہوتا ہے، ان میں عورت ذمہ داری نہیں سنبھال سکتی۔ اسی لیے عورت کا امام نہیں بنایا جا سکتا، خواہ وہ صاحب علم و فضل ہی ہو۔ قضاء اور امارت میں تو عموماً واسطہ ہی مردوں سے پڑتا ہے۔ ویسے بھی یہ گھریلو معاملہ نہیں، لہٰذا عورت کے لیے قضاء و امارت جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلفائے راشدین کے دور میں کسی عورت کو کسی ملکی منصب پر مقرر نہیں کیا گیا اگرچہ اس دور میں بلند مرتبہ خواتین کی کمی نہیں تھی کیونکہ وہ پردے میں رہنے کی پابند ہیں۔ بعد والے ادوار میں بھی اس بات پر ہی عمل جاری رہا۔ اور اہل علم کا بھی اس بات پر اجماع ہے۔
(3) ”بچا لیا“ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا اشارہ حضرت عائشہ عنہا کی طرف ہے۔ جب وہ قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں مکہ سے بصرہ تشریف لائی تھیں۔ ان کے ساتھ بڑے بڑے صحابہ تھے۔ راستے میں لوگ ملتے گئے حتیٰ کہ لشکر عظیم بن گیا کیونکہ ان کا مطالبہ صحیح تھا، اس لیے حضرت ابوبکرہ ؓ نے بھی ان کا ساتھ دینے کا ارادہ فرمایا مگر جب دیکھا کہ لشکر کی قیادت عورت کے ہاتھ میں ہے تو مندرجہ بالا فرمان رسول کے پیش نظر وہ پیچھے ہٹ گئے۔
(4) اگرچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہ تو حکومت کے خواہاں تھیں، نہ کوئی عہدہ طلب کر رہی تھیں صرف قصاص کا مطالبہ کر رہی تھیں اور یہ مطالبہ ہر مسلمان کر سکتا تھا مگر لشکر کی قیادت کی صورت میں یہ بات مناسب نہیں تھی۔ اس پر وہ خود بھی بعد میں اظہار تأسف کرتی رہیں کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، لہٰذا کوئی اعتراض نہ رہا۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
(5) ”اس کی بیٹی کو“ درمیان میں کسریٰ پرویز کا بیٹا بھی بادشاہ رہا مگر وہ صرف چھ مہینے کے لیے، اس لیے اس کا شمار نہیں کیا گیا۔
(6) ”کامیاب نہیں ہوگی“ آخرت میں یا دنیا میں بھی کیونکہ حکومت عورت کا میدان نہیں۔ وہ اس میں مردوں سے مات کھا جاتی ہے۔ تاریخ ملاخطہ فرمائیں۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ایسی قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکتی جو عورت کو اپنا حاکم و فرمانروا بنا لے۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1197»
«أخرجه البخاري، المغازي، باب كتاب النبي صلي الله عليه وسلم، إلي كسرٰي و قيصر، حديث:4425.»
تشریح: 1. اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عورت کی سربراہی موجب بربادی ہے۔
2. تاریخ اسلام میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔
3.عہد رسالت کے بعد امہات المومنین میں سے بھی کسی کو یہ منصب نہیں سونپا گیا۔
4.جب عورت گھر کی سربراہ نہیں تو ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں کس طرح دی جا سکتی ہے۔