حدیث نمبر: 2261
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطِيَاءِ وَخَدَمَهَا أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ سُلِّطَ شِرَارُهَا عَلَى خِيَارِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ابومعاویہ نے بھی اسے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2261
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (957) , شیخ زبیر علی زئی: (2261) إسناده ضعيف, موسي بن عبيدة ضعيف (تقدم: 1122) وروي ابن حبان فى صحيحه (الإحسان : 6716/6681) عن خولة بنت قيس بن قهد أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا مشت أمتي المطيطاء و خدمتهم فارس والروم سلّط بعضهم على بعض“ وسنده حسن لذاته وهو يغني عن هذا الحديث
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 7252) (صحیح) (سند میں موسی بن عبیدہ، ضعیف ہیں اگلی سند کی متابعت سے یہ حدیث بھی صحیح ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´برے لوگ اچھے لوگوں پر غلبہ پا لیں گے اس زمانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت اکڑ اکڑ کر چلنے لگے اور بادشاہوں کی اولاد یعنی فارس و روم کے بادشاہوں کی اولاد ان کی خدمت کرنے لگے تو اس وقت ان کے برے لوگ ان کے اچھے لوگوں پر مسلط کر دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2261]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موسی بن عبیدہ، ضعیف ہیں اگلی سند کی متابعت سے یہ حدیث بھی صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2261 سے ماخوذ ہے۔