حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا ، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتَتِنَ " قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبَي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بادیہ ( صحراء و بیابان ) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہو گیا ، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہو گیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ صحراء و بیابان کی سکونت اختیار کرنے والا اگر جمعہ و جماعت میں حاضر نہیں ہوتا ہے اور علماء کی مجالس سے دور رہتا ہے تو ایسا شخص تمدن و تہذیب سے دور، سخت طبیعت والا ہو گا، اسی طرح جو لہو و لعب کی غرض سے شکار کا عادی ہوا وہ غفلت میں مبتلا ہو جائے گا، البتہ جو رزق کی خاطر شکار کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ عمل اس کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ بعض صحابہ کرام نے بھی یہ عمل اپنا یا ہے، بادشاہوں کے دربار میں حاضری دینے والا اگر مداہنت سے کام لیتا ہے تو فتنہ میں پڑ جائے گا، البتہ جو بادشاہوں کے پاس رہ کر انہیں نصیحت کرے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے تو یہ اس کے لیے افضل جہاد ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2256
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (3701 / التحقيق الثانى) ، صحيح أبي داود (2547)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصید 4 (2859) ، سنن النسائی/الصید 24 (4314) ( تحفة الأشراف : 6539) ، و مسند احمد (1/357) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4314

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتنوں میں پڑنے والی چیزوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بادیہ (صحراء و بیابان) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہو گیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہو گیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہو گیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2256]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ صحراء وبیابان کی سکونت اختیار کرنے والا اگر جمعہ و جماعت میں حاضر نہیں ہوتا ہے اور علماء کی مجالس سے دوررہتا ہے تو ایسا شخص تمدن وتہذیب سے دور، سخت طبیعت والا ہو گا، اسی طرح جو لہو و لعب کی غرض سے شکار کا عادی ہوا وہ غفلت میں مبتلا ہوجائے گا، البتہ جو رزق کی خاطر شکار کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ عمل اس کے لیے جائز ہے۔
کیوں کہ بعض صحابہ کرام نے بھی یہ عمل اپنایا ہے، باد شاہوں کے دربار میں حاضری دینے والا اگر مداہنت سے کام لیتا ہے تو فتنہ میں پڑ جائے گا، البتہ جو بادشاہوں کے پاس رہ کر انہیں نصیحت کرے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے تو یہ اس کے لیے افضل جہاد ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2256 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4314 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´شکار کا پیچھا کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو «باديہ» (دیہات) میں رہے گا وہ سخت مزاج ہو گا، اور جو شکار کا پیچھا کرے گا وہ (اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو بادشاہ کا چکر لگائے گا وہ فتنے اور آزمائش میں پڑ جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4314]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث مبارکہ سے بادیہ نشینی اور صحرا نشینی کی مذمت کا پہلو نکلتا ہے، اور وہ اس طرح کہ ایسا شخص زیادہ تر اہل علم کی مجلس سے دور ہی رہتا ہے، اسی طرح وہ اخلاق فاضلہ سے بھی دور ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ بھی کہ صحرا نشین شخص جمعہ وجماعت اور اس کی دیگر خیر و برکات اور فہم دین کی مجالس و محافل سے بھی اکثر و بیشتر الگ تھلگ رہتا ہے۔
(2) شرعاً ایک حد تک شکار کرنے کی اجازت ہے، تاہم یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی وضاحت بھی کرتی ہے کہ کسی انسان کا محض شکار کا ہو کر رہ جانا انتہائی مذموم ہے، اس لیے کہ ایسا شخص اپنے دینی اور دنیوی واحباب و فرائض سے غافل ہو جاتا ہے۔ شکار کے لیے جانا بالکل ممنوع نہیں۔ اگر شکار ممنوع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ حضرت عدی بن حاتم اور ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کو اس کی اجازت نہ دیتے۔ المختصر اعتدال میں رہتے ہوئے شکار کرنا درست ہے، افراط و تفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
(3) حدیث مذکور سے حکمرانوں اور صاحب اختیار واقتدار لوگوں کا کاسہ لیسی کرنے اور ان کے دروازوں پر حاضری دینے کی مذمت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ملوک وسلاطین کا قرب اچھے بھلے انسان کو فتنوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ فتنے کئی طرح کے ہو سکتے ہیں جسمانی بھی اور روحانی بھی۔ جسمانی فتنے تو اس طرح ہو سکتے ہیں کہ حکمرانوں کی ہاں میں ہاں نہ ملانے کی وجہ سے اور ان کے اختیار کردہ منکرات و فواحش کا انکار کرنے سے جسمانی سزائیں بھگتنا پڑ سکتی ہیں جیسا کہ دنیا دار، نفس پرست بادشاہوں اور اصحاب اقتدار کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ان کے دین کو خطرہ ہوتا ہے، یعنی حکمرانوں کی موافقت کرنے سے یا ان کی بے راہ روی اور منکرات پر خاموش رہنے سے دین سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ أعاذنا اللہ منه۔
(4) وہ غافل ہو گیا کیونکہ شکار پتا نہیں کہاں کہاں بھاگتا پھرے۔ ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں، دوسرے سے تیسرے میں وہکذا، لہٰذا اس کے پیچھے پیچھے پھرنے والا شخص اپنے گھر بار سے دور ہوجائے گا۔ گھریلو کام پڑے رہ جائیں گے۔ ایسا شخص نماز روزے کا پابند بھی نہیں رہ سکتا۔ پھر شکار ملے یا نہ ملے۔ گویا وہ دنیا سے بھی گیا اور آخرت سے بھی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4314 سے ماخوذ ہے۔