سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مِنْهُ باب: یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا۔
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ ، يَعْنِي الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَبُرَيْدَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں ابن عمر ، ابو سعید خدری اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ایک قرن ختم ہو جائے گا اور دوسرا قرن شروع ہو جائے گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2250]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
وضاحت:
1؎:
یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اوردوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2250 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2538 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6486]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد کا معنی یہ نہیں ہے کہ فورا بعد یہ سوال ہوا کہ صرف اس قدر مقصود ہے، یہ سوال اس کے بعد ہوا اور حضرت جابر کی روایت سے معلوم ہوا، یہ آپ کی زندگی کے آخری ایام میں ہوا تھا اور آپ نے جواب میں پوری دنیا کی قیامت کا وقت نہیں بتایا تھا، بلکہ اس وقت موجود افراد کی قیامت (موت)
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
کا تذکرہ فرمایا تھا کہ تمہیں اپنی فکر ہونی چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2538 سے ماخوذ ہے۔