حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے ( دجال ) سے نہ ڈرایا ہو ، سنو ! وہ کانا ہے ، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے ، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ ” «ک» ، «ف» ، «ر» “ لکھا ہوا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح تخريج الطحاوية (762) ، الصحيحة (2457)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الفتن 26 (7131) ، والتوحید 17 (7407) ، صحیح مسلم/الفتن 20 (2933) ، سنن ابی داود/ الملاحم 14 (4316) ( تحفة الأشراف : 1241) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7131 | صحيح البخاري: 7408 | صحيح مسلم: 2933 | صحيح مسلم: 2934 | صحيح مسلم: 2944 | سنن ابي داود: 4316

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7408 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7408. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں ان سب نے اپنی قوم کو کانے کذاب سے ضرور خبردار کیا ہے۔ وہ (دجال) کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7408]
حدیث حاشیہ: یہ مسیح الدجال کا حال ہے جو دجال حقیقی ہوگا باقی مجازی دجال مولویوں، پیروں، اماموں کی شکل میں آکر امت کو گمراہ کرتے رہیں گے جیسا کہ حدیث میں ثلاثُونَ دجالون کذابون کےالفاظ آئے ہیں۔
حدیث میں اللہ کےبے عیب آنکھ کا ذکر آیا۔
یہی باب سے مطابقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7408 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7408 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7408. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں ان سب نے اپنی قوم کو کانے کذاب سے ضرور خبردار کیا ہے۔ وہ (دجال) کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7408]
حدیث حاشیہ:
دجال اپنے رب ہونے کا دعویٰ کرے گا، اس کے رب ہونے کی نفی کی گئی ہے۔
اس کی علامت یہ ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔
یہ ایک ایسی محسوس علامت ہے جس کو عوام الناس بھی محسوس کرسکتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت بیان کی گئی ہے کہ اس کے شایان شان بے عیب آنکھیں ہیں۔
اسے ظاہر پر محمول کرتے ہوئے مبنی برحقیقت تسلیم کیا جائے گا، جس کی اورکوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور نہ اسے مخلوق سے تشبیہ ہی دی جا سکتی ہے۔
اس صفت کا انکار کرنا کفر ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے رب العالمین کے لیے صفت عین ثابت کرنے کے لیے دو آیات اور دو احادیث پیش کی ہیں۔
آیات سے مفرد ار جمع کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہیں۔
مفرد لفظ میں صفت عین کو ثابت کیا گیا ہے جبکہ جمع میں ضمیر جمع کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
احادیث میں کذاب دجال کی علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔
عنوان کو اسی جملے سے ثابت کیا گیا ہے کیونکہ عربی زبان میں "عور" یہ ہے کہ دونوں آنکھوں میں سے ایک کی بینائی ختم ہو جائے، اس بنا پر دونوں احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دو آنکھیں ہیں جو مخلوق کی آنکھوں سے مشابہ نہیں ہیں بلکہ جس طرح اللہ رب العزت کے شایان شان ہے۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اس امر کی مزید وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی دونوں آنکھیں صحیح سالم، تندرست اور ہر قسم کے نقص وعیب سے پاک ہیں۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 285/1)
امام ابن خذیمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب العالمین کے متعلق وضاحت فرمائی ہے کہ اس کی دو آنکھیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان قرآن کریم کی صراحت کے عین مطابق ہے، پھر انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے، انھوں نے یہ آیت تلاوت کی: ’’اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
‘‘ (النساء 134)
پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو تلاوت کرتے وقت اپنا انگوٹھا کان پر اور ساتھ والی انگلی اپنی آنکھ پر رکھی تھی۔
(کتاب التوحید لابن خزیمة: 42۔
43)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7408 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7131 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7131. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جو نبی بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے سے ضرور خبردار کیا ہے۔ آگاہ رہو وہ کانا ہے جبکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عباس ؓ نے بھی نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7131]
حدیث حاشیہ: یہ دونوں احادیث الانبیاء میں موصولاً گزر چکی ہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ مومن اس کو پڑھ لے گا خواہ لکھا پڑھا ہو یا نہ ہو اور کافر نہ پڑسکے گا گو لکھا پڑھا بھی ہو۔
یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہوگی۔
نووی نے کہا صحیح یہ ہے کہ حقیقتاً یہ لفظ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا۔
بعضوں نے اس کی تاویل کی ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے دل میں ایمان کا ایسا نور دے گا کہ وہ دجال کو دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ یہ کافر جعل ساز بدمعاش ہے اور کافر کی عقل پر پردہ ڈال دے گا وہ سمجھے گا کہ دجال سچا ہے۔
دوسری روایت میں ہے یہ شخص مسلمان ہوگا اور لوگوں سے پکار کر کہہ دے گا مسلمانو یہی وہ دجال ہے جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ دجال آرے سے اس کو چروا ڈالے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ تلوار سے دو نیم کر دے گا اور یہ جلانا کچھ دجال کا معجزہ نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے کافر کو معجزہ نہیں دیتا بلکہ خدا کا ایک فعل ہوگا جس کو وہ اپنے سچے بندوں کے آزمانے کے لیے دجال کے ہاتھ پر ظاہر کرے گا۔
اس حدیث سے یہ بھی نکا کہ ولی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ شریعت پر قائم ہو۔
اگر کوئی شخص شریعت کے خلاف چلتا ہو اور مردے کو بھی زندہ کرکے دکھائے جب بھی اس کو نائب دجال سمجھنا چاہئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7131 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7131 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7131. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: جو نبی بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے سے ضرور خبردار کیا ہے۔ آگاہ رہو وہ کانا ہے جبکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عباس ؓ نے بھی نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7131]
حدیث حاشیہ:

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دجال کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجےکر کے بتلایا ک، ف، ر، جسے ہر مسلمان پڑھ سکے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 2933۔
(7365)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کا لفظ حقیقت کے طور پر لکھا ہوگا جبکہ کچھ حضرات اس کی تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ایمان کا نور بھر دے گا۔
وہ دجال کو دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ یہ کافر جعل ساز شعبدے باز ہے اور کافر کی عقل پر پردہ ڈال دیا جائے گا وہ اس کی شعبد ہ بازی دیکھ کر اسے سچا خیال کرے گا لیکن احادیث کے الفاظ اس تاویل کی تردید کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ دجال اپنے ماتھے پر لکھا ہوا۔
"کافر" مٹانے کی قدرت نہیں رکھے گا کیونکہ اگر اس کے لیے یہ ممکن ہو تو وہ اسے ضرور مٹا ڈالے تاکہ وہ لوگوں کو مزید گمراہ کر سکے لیکن اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہو گا مومن ان الفاظ کو بآسانی پڑھ لے گا خواہ وہ پڑھا لکھا نہ ہو اور کافر انھیں نہیں پڑھ سکے گا۔
خواہ پڑھا لکھا ہو۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7131 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2934 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی بال گھنے ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی اس کی آگ جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7366]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
جفال الشعر: گھنے بال۔
فوائد ومسائل: دجال سے بعض خرق عادت کام نظر آئیں گے، اس لیے لوگ اس کی جعل سازیوں کا شکار ہوجائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طرح خرق عادت کے طور پر، اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھ دیا ہوگا، جسے خرق عادت کے طور پر ہر مسلمان پڑھا لکھا ہو یا جاہل ہو پڑھے گا اور کوئی کافر پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ، پڑھ نہیں سکے گا، وہ الوہیت کا دعویٰ کرے گا، لیکن اپنی آنکھوں کو صحیح نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اپنی آنکھوں کے درمیان سے کافر کا لفظ مٹاسے گا، جس سے اس کا دجل و فریب مسلمان پر واضح ہو جائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2934 سے ماخوذ ہے۔