حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمِّي مُجَمِّعَ ابْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَقْتُلُ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ " ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَنَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَأَبِي بَرْزَةَ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَكَيْسَانَ ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَالنَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مجمع بن جاریہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ابن مریم علیہما السلام دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمران بن حصین ، نافع بن عتبہ ، ابوبرزہ ، حذیفہ بن اسید ، ابوہریرہ ، کیسان ، عثمان ، جابر ، ابوامامہ ، ابن مسعود ، عبداللہ بن عمرو ، سمرہ بن جندب ، نواس بن سمعان ، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2244
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2457)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11215) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 850

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 850 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
850- سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے دجا ل کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ مریم کے صاحبزادے (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) اسے باب لد کے پاس ضرور قتل کریں گے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:850]
فائدہ:
سیدنا عیسی علیہ السلام کا نزول حق ہے وہ دجال کوقتل کر یں گے۔
لُد (انگریزی: Lod) اسرائیل کا ایک council City جو سینٹر (ضد ابہام) میں واقع ہے۔ لُد کی مجموعی آبادی 70,000 افراد پرمشتمل ہے۔
تاریخ: تاریخی اعتبار سے لُد ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پر 5250 سال قبل مسیح پرانے ظروف بھی پائے گئے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں بھی یہاں آبادی موجود تھی۔ تاہم تاریخ میں اس کا سب سے پہلا ذکر 1500 قبل مسیح کی مصری تاریخ میں کیا گیا۔ تاریخ کے سفر کے دوران اس شہر پر کئی اقوام کا قبضہ رہا اور فاتحین نے اس کو کئی نام دیے۔ مختلف ادوار میں یہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ 636 ء میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو یہ شہر بھی فتح ہوا اور اس کا نام ال۔ لد رکھا گیا۔ بعد ازاں صلیبی جنگوں کے دوران یہ شہر مسلمانوں سے چھن گیا۔ یہ شہر برطانوی راج کا بھی حصہ رہا اور اس دوران اس کا نام تبدیل کر کے ِلڈا رکھ دیا گیا۔ تاہم جب 1948ء میں اسرائیلیوں نے عربوں کو شکست دے کر اس شہر کو فتح کر لیا تو اس شہر کا نام ایک دفعہ پھر سے تبدیل کر دیا گیا اور اس کا پرانا یہودی نام لُد دے دیا گیا۔
موجودہ شہر: موجودہ دور میں لُد اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے 15 کلومیٹر دور واقع شہر ہے۔ 2007ء کے اختتام پر یہاں کی آبادی کا اندازہ تقریباً 67,000 نفوس کا تھا، جس میں سے %80 یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ باقی ماندہ آبادی عربوں کی تھی، جس میں سے اکثریت مسلمانوں کی، جبکہ کچھ مسیحی بھی شامل تھے۔
ایئر پورٹ: لد شہر کی موجودہ اہمیت یہاں موجود بین الاقوامی ہوائی اڈے کی وجہ سے ہے۔ یہ ہوائی اڈا برطانوی راج کے دوران فوجی پروازوں کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ تاہم 1948ء میں اسرائیلی حکومت کے زیراستعمال آنے کے بعد سے یہ کمرشل، پرائیویٹ اور فوجی تینوں طرح کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ٹرین، بس یا کار کسی بھی ذریعے سے اس ہوائی اڈے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس ایئر پورٹ کے چارٹرمینل ہیں، جن میں سے تین استعمال میں ہیں جبکہ چوتھا ٹرمینل 1999ء میں تکمیل کے باوجود ابھی تک کھولا نہیں گیا ہے۔ اسرائیل فلسطین تنازعے کے پیش نظر یہاں سیکیورٹی کا بہت زیادہ انتظام کیا گیا ہے اور یہ دنیا کے محفوظ ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ (وکی پیڈیا)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 849 سے ماخوذ ہے۔