حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ ، يُقَالُ لَهَا : خُرَاسَانُ ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا : ” دجال مشرق ( پورب ) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے ، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے ، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں ، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملک ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (4072)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الفتن 33 (4072) ( تحفة الأشراف : 6614) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4072

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´دجال کہاں سے نکلے گا؟`
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: دجال مشرق (پورب) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2237]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملکِ ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہود ی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2237 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4072 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔`
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: دجال مشرق (پورب) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو «خراسان» کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4072]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس علاقے کو ماضی میں ’’خراسان‘‘ کہا جاتا تھا اس میں اکثرحصہ موجودہ ایران کا اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کا ہے جو افغانستان کے شمال میں واقع ہیں۔

(2)
چمڑے کی تہ دار ڈھال کی طرح چپٹے چہرے والے لوگ چین میں تبت میں پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت بلستان وغیرہ)
میں اور جاپان میں پائے جاتے ہیں۔
حدیث میں انھی علاقوں میں سے کسی علاقے کے باشندے مراد ہوسکتے ہیں۔
ممکن ہے خراسان کے بعض علاقوں کے لوگ بھی ایسے ہوتے ہوں۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4072 سے ماخوذ ہے۔