حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَبَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل الْكَحَّالِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مَرْفُوعٌ هُوَ صَحِيحٌ مُسْنَدٌ ، وَمَوْقُوفٌ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُسْنَدْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (779 - 781)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 50 (561) ، ( تحفة الأشراف : 1946) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 561

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 561 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 561]
561. اردو حاشیہ:
 اس میں آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے: «نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ»   [تحريم۔80]
  ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دایئں دوڑتا ہوگا، کہیں گے۔ اے ہمارے رب! ہمارے لئے ہمارا نور پورا کر دے۔ اور ہمیں بخش دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 561 سے ماخوذ ہے۔