حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ ، فَقَالَ أَبُو بِلَالٍ : انْظُرُوا إِلَى أَمِيرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ : اسْكُتْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ` میں ابوبکرہ رضی الله عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا ، اور وہ خطبہ دے رہے تھے ، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا ، ابوبلال نے کہا : ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے ، ابوبکرہ رضی الله عنہ نے کہا : خاموش رہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان ( حاکم ) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2296)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11674) (حسن) (سند میں ’’ زیاد بن کسیب ‘‘ لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابو بکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے: الصحیحة رقم: 2297، تراجع الالبانی 223)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حاکم کی توہین اللہ کی اہانت ہے۔`
زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ رضی الله عنہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ رضی الله عنہ نے کہا: خاموش رہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان (حاکم) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2224]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں (زیاد بن کسیب) لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابوبکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے: الصحیحة رقم: 2297، تراجع الالبانی 223)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2224 سے ماخوذ ہے۔