حدیث نمبر: 2220
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : يُقَالُ الْكَذَّابُ : الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَالْمُبِيرُ : الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ ،
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: مختار بن ابوعبید بن مسعود ثقفی کی شہرت اس وقت ہوئی جب اس نے حادثہ حسین کے بعد ان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان محض اس غرض سے کیا کہ لوگوں کو اپنی جانب مائل کر سکے، اور امارت (حکومت) کے حصول کا راستہ آسان بنا سکے، علم و فضل میں پہلے یہ بہت مشہور تھا، آگے چل کر اس نے اپنی شیطنت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اس کے عقیدے اور دین کا بگاڑ لوگوں پر واضح ہو گیا، یہ امارت اور دنیا کا طالب تھا، بالآخر ۶۷ ھ میں مصعب بن زبیر رضی الله عنہ کے زمانے میں مارا گیا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اپنے ظلم، قتل، اور خون ریزی میں ضرب المثل ہے، یہ عبدالملک بن مروان کا گورنر تھا، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کا اندوہناک حادثہ اسی کے ہاتھ پیش آیا۔ مقام واسط پر ۷۵ ھ میں اس کا انتقال ہوا۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ : أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا ، فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ قَتِيلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے` ہشام بن حسان سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ نَحْوَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ، وَشَرِيكٌ ، يَقُولُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ ، وَإِسْرَائِيلُ ، يَقُولُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، اور یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے ۔ شریک نے اپنے استاذ کا نام عبداللہ بن عصم بیان کیا ہے ، جب کہ اسرائیل نے عبداللہ بن عصمہ بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في المناقب 74 (3944) ( تحفة الأشراف : 7283) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3944

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیلہ بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا ہو گا۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2220]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مختار بن ابوعبید بن مسعود ثقفی کی شہرت اس وقت ہوئی جب اس نے حادثہ حسین کے بعد ان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان محض اس غرض سے کیا کہ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرسکے، اور امارت (حکومت) کے حصول کا راستہ آسان بناسکے، علم وفضل میں پہلے یہ بہت مشہور تھا، آگے چل کرا س نے اپنی شیطنت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اس کے عقیدے اور دین کا بگاڑ لوگوں پر واضح ہوگیا، یہ امارت اور دنیا کا طالب تھا، بالآخر 67 ھ میں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ماراگیا۔
حجاج بن یوسف ثقفی اپنے ظلم، قتل، اور خون ریزی میں ضرب المثل ہے، یہ عبدالملک بن مروان کا گورنر تھا، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا اندوہناک حادثہ اسی کے ہاتھ پیش آیا۔
مقام واسط پر 75ھ میں اس کا انتقال ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2220 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3944 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہو گا " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3944]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3944 سے ماخوذ ہے۔