حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جندب بن سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: بھرپور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کر لو، یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی، ان شاءاللہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، التعليق الرغيب (1 / 141 و 163)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 46 (657) ، ( تحفة الأشراف : 3255) ، مسند احمد (4/312، 313) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 657

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
جندب بن سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 222]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی: بھر پور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کر لو، یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی، ان شاء اللہ۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 222 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 657 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ کی امان یا ذمہ داری میں ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے اپنی پناہ میں آنے والے کے بارے میں مطالبہ نہ کرے، (اگر کسی نے اس کی پناہ میں آنے والے کو ستایا اور اس نے اس کا مؤاخذہ کیا) تو وہ اس کو پکڑ کر جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1493]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
فِي ذِمَّةِالله: وہ اللہ کی امان اور پناہ میں ہے یا اس کی ضمانت اور ذمہ داری میں ہے۔
(2)
مَن يَّطْلُبُهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ: اگر کسی نے اس کی پناہ اور ذمہ داری کو کچھ نقصان پہنچایا يا پناہ میں آنے والے کو کچھ تکلیف پہنچا کر اس کی امان میں دخل اندازی کی۔
(3)
يُدْرِكُهُ: وہ اس کو پکڑ لے گا، وہ مؤاخذہ سے بچ نہیں سکے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 657 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 657 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جندب قسری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے صبح کی نماز پڑھ لی تو وہ اللہ کے حفظ و امان میں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری میں آنے والے کے بارے میں کچھ بالکل نا کرے کیونکہ وہ جس سے اپنی پناہ کے بارے میں کچھ مطالبہ کرے گا وہ اسے پکڑ لے گا پھر اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1494]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جندب قسری سے مراد جندب بن عکرمہ ہی ہے جو بجلی ہے شاید ان کا قسری قبیلہ سے تعلق ہو یا پڑوس ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 657 سے ماخوذ ہے۔