سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مَا جَاءَ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ قِبَلِ الْحِجَازِ باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ حجاز کی طرف سے آگ نکلے۔
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ ، أَوْ مِنْ نَحْوِ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” تم شام چلے جانا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے ، ۲- اس باب میں حذیفہ بن اسید ، انس ، ابوہریرہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔