سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ يَعْنِي السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ " ، وَأَشَارَ أَبُو دَاوُدَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں “ ( یہ بتانے کے لیے ) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ، چنانچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6504 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا بیان ایک حدیث سے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بعثت أنا والساعة كهاتين»
میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔ [صحيح بخاري: 6504، صحيح مسلم: 2951، دارالسلام: 7404]
دو انگلیوں سے مراد سبابہ اور درمیانی انگلی ہیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 7405]
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حبان نے فرمایا: «أراد به أني بعثت والساعة كالسبابة والوسطي من غير أن يكون بيننانبي آخر، لأني آخر الأنبياء و علٰي أمتي تقوم الساعة .»
اس حدیث سے آپ کی مراد یہ ہے کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں جس طرح سبابہ (شہادت والی انگلی) اور درمیانی انگلی ہیں، ہمارے درمیان دوسرا کوئی نبی نہیں، کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری اُمت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان 15/ 13 ح 6640، پر ان انسخه: 6606]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 100 صفحہ 22 تا 47
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بعثت أنا والساعة كهاتين»
میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔ [صحيح بخاري: 6504، صحيح مسلم: 2951، دارالسلام: 7404]
دو انگلیوں سے مراد سبابہ اور درمیانی انگلی ہیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 7405]
اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حبان نے فرمایا: «أراد به أني بعثت والساعة كالسبابة والوسطي من غير أن يكون بيننانبي آخر، لأني آخر الأنبياء و علٰي أمتي تقوم الساعة .»
اس حدیث سے آپ کی مراد یہ ہے کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں جس طرح سبابہ (شہادت والی انگلی) اور درمیانی انگلی ہیں، ہمارے درمیان دوسرا کوئی نبی نہیں، کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری اُمت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان 15/ 13 ح 6640، پر ان انسخه: 6606]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 100 صفحہ 22 تا 47
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔