سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ حُلُولِ الْمَسْخِ وَالْخَسْفِ باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2212
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ : " إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلا ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت میں «خسف» ، «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا “ ۱؎ ، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایسا کب ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے ، ۲- یہ حدیث غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «خسف» : زمین کا دھنسنا، «مسخ» : صورتوں کا تبدیل ہونا، «قذف» : پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے “۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان۔`
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس امت میں «خسف» ، «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا “ ۱؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2212]
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس امت میں «خسف» ، «مسخ» اور «قذف» واقع ہو گا “ ۱؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہو جائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2212]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
خسف: زمین کا دھنسنا، مسخ: صورتوں کا تبدیل ہونا، قذف: پتھروں کی بارش ہونا۔
وضاحت:
1؎:
خسف: زمین کا دھنسنا، مسخ: صورتوں کا تبدیل ہونا، قذف: پتھروں کی بارش ہونا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2212 سے ماخوذ ہے۔