سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مِنْهُ باب: فتنوں سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ ابْنُ لُكَعٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہو جائیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ، ہم اسے صرف عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتنوں سے متعلق ایک اور باب۔`
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہو جائیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2209]
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہو جائیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2209]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ ایسے بیوقوفوں، لئیموں اور غلاموں کو امارت اور تونگری حاصل ہوگی جن میں غلامی، بیوقوفی اور حماقت نسل درنسل چلی آرہی ہے۔
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبد اللہ بن عبد الرحمن اشہلی‘‘ ضعیف ہیں)
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ ایسے بیوقوفوں، لئیموں اور غلاموں کو امارت اور تونگری حاصل ہوگی جن میں غلامی، بیوقوفی اور حماقت نسل درنسل چلی آرہی ہے۔
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبد اللہ بن عبد الرحمن اشہلی‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2209 سے ماخوذ ہے۔