سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مِنْهُ باب: فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، قَالَ : فَيَجِيءُ السَّارِقُ ، فَيَقُولُ : فِي مِثْلِ هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ، وَيَجِيءُ الْقَاتِلُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَتَلْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے قریب ) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی ، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے ، قاتل آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے ، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا ، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2208]
وضاحت:
1؎:
عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ حال کہ قبرکے عذاب کا اتنا خوف اورڈرلاحق ہو کہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگیں باوجودیکہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ اس عذاب کو بھولے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ منازلِ آخرت میں سے پہلی منزل ہے، اللہ رب العالمین ہم سب کو قبرکے عذاب سے بچائے آمین۔
زمین اپنے خزانے اگل دے گی لوگوں کے دلوں میں مال و دولت کی ہوس ختم ہو جائے گی اور آخرت کی فکر بڑھ جائے گی اگرچہ اس کی کچھ جھلک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں دیکھی جا چکی ہے لیکن اصل ظہور آخری دور میں ہو گا۔
جب برکات ارضی کا پورا پورا ظہور ہو گا۔