حدیث نمبر: 2208
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَقِيءُ الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا أَمْثَالَ الْأُسْطُوَانِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، قَالَ : فَيَجِيءُ السَّارِقُ ، فَيَقُولُ : فِي مِثْلِ هَذَا قُطِعَتْ يَدِي ، وَيَجِيءُ الْقَاتِلُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَتَلْتُ ، وَيَجِيءُ الْقَاطِعُ ، فَيَقُولُ : فِي هَذَا قَطَعْتُ رَحِمِي ، ثُمَّ يَدَعُونَهُ فَلَا يَأْخُذُونَ مِنْهُ شَيْئًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے قریب ) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی ، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے ، قاتل آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے ، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا : اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا ، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الزکاة 18 (1013) ( تحفة الأشراف : 13422) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1013

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتنوں سے متعلق مزید پیش گوئی۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2208]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ حال کہ قبرکے عذاب کا اتنا خوف اورڈرلاحق ہو کہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگیں باوجودیکہ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ہمارا یہ حال ہے کہ اس عذاب کو بھولے ہوئے ہیں، حالانکہ یہ منازلِ آخرت میں سے پہلی منزل ہے، اللہ رب العالمین ہم سب کو قبرکے عذاب سے بچائے آمین۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2208 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1013 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زمین اپنے جگر گوشے سونے اور چاندی کے ستونوں کی شکل میں اگل دے گی (زمین اپنے تمام خزانے باہر نکالے گی) تو قاتل آ کر (دیکھے گا) اور کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قتل کیا تھا رشتہ داری توڑنے والا آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کی خاطر میں نے قطع رحمی کی، چور آ کر (دیکھ کر) کہے گا۔ اس کے سبب میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر اس مال کو چھوڑدیں گے۔ اس میں سے کچھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2341]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ان تمام احادیث کا تعلق مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری دور سے ہے جب قیامت کا زمانہ قریب آئے گا جنگوں کے نتیجہ میں مرد ہلاک ہو جائیں گے عورتیں رہ جائیں گی۔
زمین اپنے خزانے اگل دے گی لوگوں کے دلوں میں مال و دولت کی ہوس ختم ہو جائے گی اور آخرت کی فکر بڑھ جائے گی اگرچہ اس کی کچھ جھلک حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں دیکھی جا چکی ہے لیکن اصل ظہور آخری دور میں ہو گا۔
جب برکات ارضی کا پورا پورا ظہور ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1013 سے ماخوذ ہے۔