حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللَّهُ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔

وضاحت:
۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہو گی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کر لے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 754) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 148

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2207]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیوں کہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2207 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 148 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی ایسے انسان پر قیامت قائم نہیں ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:376]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
اس دنیا کا نظام جب درہم برہم ہونا ہوگا تو اس دنیا میں خالق کائنات کا نام لیوا کوئی شخص زندہ نہیں ہوگا۔
اس دنیا کا وجود کائنات کے موجد کے نام کی برکت سے قائم اورجس قدر اس کا نام یہاں بلند وبالا ہوگا اس قدر اس میں سکون وامن ہوگا، اورجب اسکا نام لینے والے ختم ہوں گے تو یہ کائنات بھی تمام ہوجائے گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 148 سے ماخوذ ہے۔