سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مَا جَاءَ سَتَكُونُ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ باب: ان فتنوں کا بیان جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو ، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا ، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا ، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہو گا، ہر ایک دنیا کا طالب ہو گا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کر بیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ان فتنوں کا بیان جو سخت تاریک رات کی طرح ہوں گے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2195]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2195]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا، ہرایک دنیا کا طالب ہوگا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کربیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا، ہرایک دنیا کا طالب ہوگا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کربیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2195 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 118 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان فتنوں سے پہلے پہلےجو رات کے تاریک ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے۔ نیک اعمال کر لو، صبح کو آدمی مسلمان ہوگا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر، اپنا دین ایمان دنیوی سامان کےعوض بیچے ڈالے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:313]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
فِتَنٌ: فِتْنَةٌ کی جمع ہے، آزمائش و امتحان کی چیز۔
(2)
بَادِرُوْا: جلدی کرو، سبقت کرو۔
(3)
كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ: تاریک رات کے ٹکڑے، یعنی بکثرت فتنوں کا ظہور ہو گا۔
فوائد ومسائل:
(1)
انسان کو اپنی صحت وعافیت کے اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے چاہئیں، معلوم نہیں حالات میں کب تبدیلی واقع ہوجائے اور نیکی کرنا مشکل ہوجائے۔
دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر کے نیکی کرنا ممکن نہیں ہے۔
اور ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر دے۔
(2)
ایمان کی تباہی وبربادی کا باعث دنیوی مفادات واغراض ہیں، جن کا اسیر ہو کر انسان اپنے ایمان سے محروم ہوسکتا ہے اور ان اغراض ومفادات کو قربان کرنا مشکل ہے، جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرہ کے حالات سے محسوس ہورہا ہے اور کامیابی وکامرانی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ انسان دنیوی مفادات سے بلند ہر کر ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
: (1)
فِتَنٌ: فِتْنَةٌ کی جمع ہے، آزمائش و امتحان کی چیز۔
(2)
بَادِرُوْا: جلدی کرو، سبقت کرو۔
(3)
كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ: تاریک رات کے ٹکڑے، یعنی بکثرت فتنوں کا ظہور ہو گا۔
فوائد ومسائل:
(1)
انسان کو اپنی صحت وعافیت کے اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے چاہئیں، معلوم نہیں حالات میں کب تبدیلی واقع ہوجائے اور نیکی کرنا مشکل ہوجائے۔
دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر کے نیکی کرنا ممکن نہیں ہے۔
اور ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ دنیوی مفادات ومنافع کو نظر انداز کر دے۔
(2)
ایمان کی تباہی وبربادی کا باعث دنیوی مفادات واغراض ہیں، جن کا اسیر ہو کر انسان اپنے ایمان سے محروم ہوسکتا ہے اور ان اغراض ومفادات کو قربان کرنا مشکل ہے، جیسا کہ آج کل ہمارے معاشرہ کے حالات سے محسوس ہورہا ہے اور کامیابی وکامرانی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ انسان دنیوی مفادات سے بلند ہر کر ہی کچھ حاصل کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 118 سے ماخوذ ہے۔