حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا ، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَجَرِيرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَكُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، وَالصُّنَابِحِيِّ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، جریر ، ابن عمر ، کرز بن علقمہ ، واثلہ اور صنابحی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎ ـ: یعنی کفار سے مشابہت مت اختیار کرنا اور کفریہ اعمال کو نہ اپنانا، اس حدیث میں کافر کا لفظ زجر و توبیخ کے طور پر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3942 و 3943)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحج 132 (1739) ، والفتن 8 (7079) ( تحفة الأشراف : 6185) ، و مسند احمد (1/230، 402) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7079

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردن نہ مارنا۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2193]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کفار سے مشابہت مت اختیار کرنا اور کفر یہ اعمال کو نہ اپنانا، اس حدیث میں کافر کا لفظ زجر وتوبیخ کے طور پر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2193 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7079 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7079. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد الٹے پاؤں پھر کر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7079]
حدیث حاشیہ: منشائے نبوی یہ تھا کہ آپ میں لڑنا جھگڑنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے یہ کافروں کا طریقہ ہے پس تم ہر گز یہ شیوہ اختیار نہ کرنا مگر افسوس کہ مسلمان بہت جلد اس پیغام رسالت کو بھول گئے۔
إنا للہ و أسفا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7079 سے ماخوذ ہے۔