حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی ، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی ، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حوالہ ، ابن عمر ، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا : ان سے مراد اہل حدیث ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی یہ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اللہ کی نصرت و مدد سے سرفراز رہے گا، اس کی نصرت و تائید نہ کرنے والے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، امام نووی کہتے ہیں: یہ گروہ اقطار عالم میں منتشر ہو گا، جس میں بہادر قسم کے جنگجو، فقہاء، محدثین، زہداء اور معروف و منکر کا فریضہ انجام دینے والے لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2192
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (6)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المقدمة 1 (6) ( تحفة الأشراف : 11081) ، و مسند احمد (5/34، 35) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سر زمین شام کا بیان۔`
قرہ بن ایاس المزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2192]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی یہ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اللہ کی نصرت و مدد سے سرفراز رہے گا، اس کی نصرت وتائید نہ کرنے والے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، امام نووی کہتے ہیں: یہ گروہ اقطار عالم میں منتشر ہوگا، جس میں بہادر قسم کے جنگجو، فقہاء، محدثین، زہداء اور معروف و منکر کا فریضہ انجام دینے والے لوگ ہوں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2192 سے ماخوذ ہے۔