حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا صَيْفِيُّ بْنُ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ ، وَمَسْخٌ ، وَقَذْفٌ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِذَا ظَهَرَ الْخُبْثُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا ، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا “ ، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، جب فسق و فجور عام ہو جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ۲- راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2185
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (987) ، الروض النضير (2 / 394)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 17542) (صحیح)»