حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَنَسٍ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند ( دو ٹکڑوں میں ) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ گواہ رہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن مسعود ، انس اور جبیر بن مطعم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پر ہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2182
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/صفات المنافقین 8 (2801) ( تحفة الأشراف : 7390) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3288

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´چاند کے شق (دو ٹکڑے) ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2182]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چاند کا دوٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پرہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2182 سے ماخوذ ہے۔