حدیث نمبر: 218
قَالَ مُجَاهِدٌ : قَالَ مُجَاهِدٌ : وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَشْهَدُ جُمْعَةً وَلَا جَمَاعَةً ؟ قَالَ : " هُوَ فِي النَّارِ " ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ : وَمَعْنَى الْحَدِيثِ أَنْ لَا يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ وَالْجُمُعَةَ رَغْبَةً عَنْهَا وَاسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا وَتَهَاوُنًا بِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مجاہد کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی الله عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو ۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو ، تو انہوں نے کہا : وہ جہنم میں ہو گا ۔ مجاہد کہتے ہیں : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بے رغبتی کرتے ہوئے ، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف موقوف, عبد الرحمن بن محمد المحاربي عنعن وهو مدلس (د 2031) وليث بن أبي سليم ضعیف مدلس (د 132)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6421) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جو اذان سنے اور نماز میں حاضر نہ ہو اس کی شناعت کا بیان۔`
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو، تو انہوں نے کہا: وہ جہنم میں ہو گا۔ مجاہد کہتے ہیں: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بے رغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 218]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 218 سے ماخوذ ہے۔