حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سِيمِينْ كُوش، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ ، اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنَ السَّيْفِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : لَا يُعْرَفُ لِزِيَادِ بْنِ سِيمِينَ كُوشْ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ لَيْثٍ فَرَفَعَهُ ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ لَيْثٍ فَوَقَفَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے ، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے ، ۳- حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے ، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2178
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (3967) // ضعيف سنن ابن ماجة (859) ، ضعيف أبي داود (918 / 4265) ، ضعيف الجامع الصغير (2475) // , شیخ زبیر علی زئی: (2178) إسناده ضعيف / د 4265، جه 3967
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الفتن 3 (4265) ، سنن ابن ماجہ/الفتن 12 (3967) ( تحفة الأشراف : 8631) ، و مسند احمد (2/212) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4265 | سنن ابن ماجه: 3967

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فتنہ و فساد سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہو گا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2178]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2178 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4265 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4265]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندََا ضعیف ہے۔
تاہم ان حالات میں زبان سے بولنا۔
۔
۔
۔
اسی صورت میں فتنہ انگیزی ہو گی جب کوئی کسی کی نا حق حمایت یا مخالفت کرے گا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر تو کسی دور میں بھی منع نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4265 سے ماخوذ ہے۔