سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مَا جَاءَ كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي الْفِتْنَةِ باب: فتنہ کے وقت آدمی کو کیسا ہونا چاہئے؟
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا ، قَالَ : " رَجُلٌ فِي مَاشِيَتِهِ يُؤَدِّي حَقَّهَا ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ ، وَرَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ ، وَيُخِيفُونَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدَرِيِّ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ام مالک بہزیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا : ” وہ بہت جلد ظاہر ہو گا “ ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو ، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو ، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالك البهزية عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ۳- اس باب میں ام مبشر ، ابو سعید خدری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام مالک بہزیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا: ” وہ بہت جلد ظاہر ہو گا “، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ” ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2177]
وضاحت:
1؎:
یعنی فتنہ کے ظہور کے وقت ایسا آدمی سب سے بہتر ہوگا جو فتنہ کی جگہوں سے دور رہ کر اپنے جانوروں کے پالنے پوسنے میں مشغول ہو، اور ان کی وجہ سے اس پر جو شرعی واجبات و حقوق ہیں مثلا زکاۃ و صدقات کی ادائیگی میں ان کا خاص خیال رکھتا ہو، ساتھ ہی رب العالمین کی اس کے حکم کے مطابق عبادت بھی کرتا ہو، اسی طرح وہ آدمی بھی بہتر ہے جو اپنے گھوڑے کے ساتھ کسی دور دراز جگہ میں رہ کر وہاں موجود دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہو، انہیں خوف وہراس میں مبتلا رکھتا ہو اور خود بھی ان سے خوف کھاتا ہو۔
نوٹ:
(سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے)