سنن ترمذي
كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
باب مِنْهُ باب: معروف و منکر سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ وَالْمُدْهِنِ فِيهَا ، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا ، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا ، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا : لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا : فَإِنَّا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا ، وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے حدود پر قائم رہنے والے ( یعنی اس کے احکام کی پابندی کرنے والے ) اور اس کی مخالفت کرنے والوں کی مثال اس قوم کی طرح ہے ، جو قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک کشتی میں سوار ہوئی ، بعض لوگوں کو کشتی کے بالائی طبقہ میں جگہ ملی اور بعض لوگوں کو نچلے حصہ میں ، نچلے طبقہ والے اوپر چڑھ کر پانی لیتے تھے تو بالائی طبقہ والوں پر پانی گر جاتا تھا ، لہٰذا بالائی حصہ والوں نے کہا : ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تاکہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ ( یہ سن کر ) نچلے حصہ والوں نے کہا : ہم کشتی کے نیچے سوراخ کر کے پانی لیں گے ، اب اگر بالائی طبقہ والے ان کے ہاتھ پکڑ کر روکیں گے تو تمام نجات پا جائیں گے اور اگر انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کریں گے تو تمام کے تمام ڈوب جائیں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسی سے مقصود باب ثابت ہوا ہے۔
یوں یہ حدیث بہت سے فوائد پر مشتمل ہے۔
خاص طور پر نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا کیوں ضروری ہے؟ اسی سوال پر اس میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ دنیا کی مثال ایک کشتی کی سی ہے۔
جس میں سوار ہونے والے افراد میں سے ایک فرد کی غلطی جو کشتی سے متعلق ہو سارے افراد ہی کو لے ڈوب سکتی ہے۔
قرآن مجید میں یہی مضمون اس طور پر بیان ہوا۔
﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً﴾ (الأنفال: 25)
یعنی فتنہ سے بچنے کی کوشش کرو جو اگر وقوع میں آگیا تو وہ خاص ظالموں ہی پر نہیں پڑے گا بلکہ ان کے ساتھ بہت سے بے گناہ بھی پس جائیں گے۔
جیسے حدیث ہٰذا میں بطور مثال نیچے والوں کا ذکر کیاگیا کہ اگر اوپر والے نیچے والوں کو کشتی کے نیچے سورا کرنے سے نہیں روکیں گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نیچے والا حصہ پانی سے بھر جائے گا اور نیچے والوں کے ساتھ اوپر والے بھی ڈوبیں گے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (آل عمران: 105)
یعنی اے مسلمانو! تم میں سے ایک جماعت ایسی مقرر ہونی چاہئے جو لوگوں کو بھلائی کا حکم کرتی رہے اور برائیوں سے روکتی رہے۔
آیت ہٰذا کی بنا پر جملہ اہل اسلام پر فرض ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک جماعت خاص مقررکریں۔
الحمد للہ حکومت سعودیہ میں یہ محکمہ اسی نام سے قائم ہے اور پوری مملکت میں اس کی شاخیں ہیں جو یہ فرض انجام دے رہی ہیں۔
ضرورت ہے کہ اجتماعی طور پر ہر جگہ مسلمان ایسے ادارے قائم کرکے عوام کی فلاح و بہبود کا کام انجام دیا کریں۔
خلاصہ یہ کہ تقسیم کے لیے قرعہ اندازی ایک بہترین طریقہ ہے جس میں شرکاءمیں سے کسی کو بھی انکار کی گنجائش نہیں رہ سکتی۔
علامہ قسطلانی فرماتے ہیں: ومطابقة الحديث للترجمة غير خفية وفيه وجوب الصبر على أذى الجار إذا خشي وقوع ما هو أشد ضررًا وأنه ليس لصاحب السفل أن يحدث على صاحب العلو ما يضرّ به وأنه إن أحدث عليه ضررًا لزمه إصلاحه، وأن لصاحب العلو منعه من الضرر وفيه جواز قسمة العقار المتفاوت بالقرعة. قال ابن بطال: والعلماء متفقون على القول بالقرعة إلا الكوفيين فإنهم قالوا لا معنى لها لأنها تشبه الأزلام التي نهى الله عنها (قسطلاني)
حدیث کی باب سے مطابقت ظاہر ہے اور اس سے پڑوسی کی تکلیف پر صبر کرنا بطور وجوب ثابت ہوا۔
جب عدم صبر کی صورت میں اس سے بھی کسی بڑی مصیبت کے آنے کا خطرہ ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نیچے والے کے لیے جائز نہیں کہ اوپر والے کے لیے کوئی ضرر کا کام کرے۔
اگر وہ ایسا کربیٹھے تو اس کو اس کی درستگی واجب ہے اور اوپر والے کو حق ہے کہ وہ ایسے ضرر کے کام سے اس کو روکے اور سامان و اسباب متفرقہ کا قرعہ اندازی سے تقسیم کرنا بھی ثابت ہوا۔
ابن بطال نے کہا علماءکا قرعہ کے جواز پر اتفاق ہے سوائے اہل کوفہ کے۔
وہ کہتے ہیں کہ قرعہ اندازی ان تیروں کے مشابہ ہی ہے جو کفار مکہ بطور فال نکالا کرتے تھے۔
اس لیے یہ جائز نہیں ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ازلام سے منع کیا ہے۔
مترجم کہتا ہے کہ اہل کوفہ کا یہ قیاس باطل ہے۔
ازلام اور قرعہ اندازی میں بہت فرق ہے اور جب قرعہ کا ثبوت صحیح حدیث سے موجود ہے تو اس کو ازلام سے تشبیہ دینا صحیح نہیں ہے۔
(1)
اگر ایک مشترکہ چیز میں چند لوگ برابر حقوق رکھتے ہوں اور ان کے درمیان حقوق کی تقسیم میں فیصلہ مشکل یا ناممکن ہو تو قرعہ اندازی کی جا سکتی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر جنگ پر روانہ ہوتے تو ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے کہ کون سی زوجۂ محترمہ سفر میں آپ کی رفاقت اختیار کرے گی۔
(2)
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو قرعہ اندازی سے حصے متعین کرنے کے جواز میں پیش کیا ہے۔
بلاشبہ قرعہ اندازی حقوق تقسیم کرنے کا ایک دینی طریقہ ہے جبکہ کچھ لوگ اس کے مخالف ہیں۔
وہ پانسے کے ذریعے سے تقسیم کرنے پر اسے قیاس کرتے ہیں جس کی قرآن میں ممانعت ہے۔
قرعہ اندازی اور تیروں کے ذریعے سے قسمت آزمانی میں بہت فرق ہے کیونکہ قرعہ اندازی کا ثبوت صحیح احادیث سے ملتا ہے، اس لیے اسے تیروں سے تشبیہ دینا صحیح نہیں۔
(3)
واضح رہے کہ گناہ کا ارتکاب کرنا اور گناہ سامنے ہوتا دیکھ کر ٹھنڈے پیٹوں (آرام اور خوشی سے)
برداشت کر لینا جرم کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں اور دونوں ہی تباہی و بربادی کا باعث ہیں۔
حضرت امام کا اس حدیث کو یہاں لانے کا یہی مقصد ہے اور اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید شدید بھی ظاہر ہوئی کہ برائی کو روکنا ضروری ہے ورنہ اس کی لپیٹ میں سب ہی آسکتے ہیں۔
طاقت ہو تو برائی کو ہاتھ سے روکا جائے ورنہ زبان سے روکنے کی کوشش کی جائے۔
یہ بھی نہ ہوسکے تو دل میں اس سے سخت نفرت کی جائے اور یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔
الحمدللہ حکومت عربیہ سعودیہ میں دیکھا کہ محکمہ امربالمعروف والنهی عن المنکر سرکاری سطح پر قائم ہے اور ساری مملکت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، جو اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اللہ پاک ہر جگہ کے مسلمانوں کو یہ توفیق بخشے کہ وہ اسی طرح اجتماعی طور پر بنی نوع انسان کی یہ اعلیٰ ترین خدمت انجام دیں اور انسانوں کی بھلائی و فلاح کو اپنی زندگی کا لازمہ بنالیں۔
آمین یا رب العالمین۔
اس حدیث سے قرعہ اندازی کا ثبوت ملتا ہے کہ جو کشتی انہوں نے کرائے پر لی تھی یا ان سب کی ملکیت تھی اس کے متعلق سب برابر کے حصے دار تھے۔
قرعہ اندازی کے ذریعے سے ان کے حصے کا تعین کیا گیا جس کے متعلق ان کے آپس میں اختلاف اور جھگڑے کا خطرہ تھا۔
اس طرح کے معاملات میں قرعہ اندازی جائز ہے جبکہ حقوق میں سب برابر ہوں۔
اس حدیث میں مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ ایک کے گناہ کی وجہ سے پورا شہر اور پورا ملک تباہ ہو جاتا ہے، گنا ہگار کو اس کی حالت پر نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ اس کی بھر پور مذمت کر نی چا ہیے، گناہ کو دیکھ کر خاموش رہنا گناہ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔