حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ لَعَنَتْهُ الْمَلَائِكَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، وَرَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَزَادَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ۲- یہ خالد حذاء کی روایت سے غریب سمجھی جاتی ہے ، ۳- ایوب نے محمد بن سیرین کے واسطہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، لیکن اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے «وإن كان أخاه لأبيه وأمه» ” اگرچہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو “ ، ۴- اس باب میں ابوبکرہ ، ام المؤمنین عائشہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح غاية المرام (446)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 35 (2616) ( تحفة الأشراف : 14464) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2616

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2616 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"جس نے اپنے بھائی کی طرف تیز دھار آلہ سے اشارہ کیا(اس کو ڈرانے یا خوف زدہ کرنے کے لیے) تو فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے۔ حتی کہ اس کو چھوڑدے اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6666]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، اپنے کسی بھائی کو خوف زدہ کرنے کے لیے یا محض خوش طبعی میں پریشان کے لیے اس کی طرف کسی ہتھیار کا رخ کرنا، فرشتوں کی لعنت کا باعث ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے، کسی مسلمان بھائی کو تنگ کرنا، اس کو پریشان کرنا، مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے، کیونکہ بعض دفعہ ہتھیار غیر شعوری طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس کا سدباب کرتے ہوئے شریعت نے اس سے محض اشارہ کرنا بھی جرم قرار دیا اور آج مسلمان اشارے کی بجائے ہتھیاروں سے دوسرے مسلمانوں کو ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2616 سے ماخوذ ہے۔