سنن ترمذي
كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: تقدیر کے احکام و مسائل
باب باب: تقدیر سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِبعٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدُ بْنِ عًبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزَومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ، قَالَ : " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ { 48 } إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ { 49 } سورة القمر آية 48-49 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ” جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے ( تو ان سے کہا جائے گا ) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو ، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے “ ( القمر : ۴۸-۴۹ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- مذکورہ حدیث مجھ سے قبیصہ نے بیان کی ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ” جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے “ (القمر: ۴۸-۴۹)۔ [سنن ترمذي/كتاب القدر/حدیث: 2157]
وضاحت:
1؎:
یعنی جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے (تواُن سے کہا جائے گا) تم لوگ جہنم کامزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیداکیا ہے۔
(القمر: 48، 49)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے (اور الجھنے) لگے اس پر آیت کریمہ: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ” یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے “ (القمر: ۴۸)، نازل ہوئی۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3290]
وضاحت:
1؎:
یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں نے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے (القمر: 48)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی: ” جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گا: جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے “ (سورۃ القمر: ۴۹) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 83]
اس آیت اور حدیث سے بھی تقدیر کا ثبوت ملتا ہے۔
(2)
کفار کے لیے جہنم کا سخت عذاب مقدر ہے۔
(3)
واضح اور قطعی مسئلے میں اختلاف اور بحث کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔