سنن ترمذي
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْجَمَاعَةِ باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهَكَذَا رَوَى نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَعَامَّةُ مَنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالُوا : خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ، إِلَّا ابْنَ عُمَرَ ، فَإِنَّهُ قَالَ : بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، ابوسعید ، ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- نافع نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” صلاۃ باجماعت آدمی کی تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے ۔
۴- عام رواۃ نے ( صحابہ ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ” پچیس درجے “ نقل کیا ہے ، صرف ابن عمر نے ” ستائیس درجے “ کی روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں چیزوں کے خواص و اثرات میں درجات کا فرق ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی قدرو قیمت اور افادیت میں بھی فرق ہوجاتا ہے، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی درجات کا تفاوت ہوتا ہے۔
ان میں سے ایک نماز باجماعت کی ادائیگی بھی ہے۔
اس کی فضیلت بایں الفاظ بیان کی گئی ہے کہ اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں اس کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے، یعنی اس کی پابندی کرنے والے کو ستائیس گنا زیادہ اجر ملتا ہے۔
اب صاحب ایمان کا مقام یہ ہے کہ وہ اس فضیلت پر دل وجان سے یقین رکھتے ہوئے ہر وقت کی نماز جماعت ہی سے پڑھنے کا اہتمام کرے۔
پھر نماز باجماعت پڑھنے والوں کے اخلاص و تقویٰ اور خشوع خضوع میں تفاوت کی وجہ سے ثواب میں بھی کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، غالبا اگلی حدیث میں پچیس درجات کا ذکر اسی وجہ سے ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلا وجہ جماعت کے بغیر اکیلے نماز پڑھنا صحیح ہے بلکہ واجب کی فضیلت غیر واجب کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
والله أعلم۔
(2)
انفرادی نماز کے مقابلے میں اجتماعی نماز ستائیس درجے زیادہ فضیلت کی حامل اس لیے ہے کہ اس میں ایسی ستائیس خصلتیں پائی جاتی ہیں جن کی فضیلت کے متعلق الگ الگ احادیث مروی ہیں۔
ان کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ نماز باجماعت ادا کرنے کی نیت سے اذان کا جواب دینا۔
٭مسجد میں اول وقت پہنچنے کےلیے جلدی کرنا۔
٭مسجد کی طرف سکون ووقار سے جانا۔
٭دعا پڑھتے ہوئے مسجد میں داخل ہونا۔
٭مسجد میں پہنچ کر تحیۃالمسجد ادا کرنا۔
٭جماعت کا انتظار کرنا۔
٭ فرشتوں کا اس کےلیے دعائے رحمت کرنا۔
٭فرشتوں کا اللہ کے ہاں پہنچ کر نمازی کے لیے گواہی دینا۔
٭اقامت کا جواب دینا۔
٭ اقامت کے وقت شیطانی وساوس سے محفوظ رہنا کیونکہ وہ اقامت کے وقت بھاگ جاتا ہے۔
٭امام کی تکبیر تحریمہ کا انتظار کرنا۔
٭تکبیر تحریمہ میں شمولیت کرنا۔
٭صفوں کے شگاف بند کرتے ہوئے صف بندی کا اہتمام کرنا۔
٭امام کی تسميع یعنی سمع الله لمن حمده کا جواب دینا۔
٭سہوونسیان سے محفوظ رہنا۔
اگر امام بھول جائے تو اسے سبحان اللہ کہہ کر آگاہ کرنا۔
٭خشوع خضوع کی وجہ سے دوران نماز میں آنے والےخیالات سے محفوط رہنا۔
٭نماز ادا کرتے وقت مطلوبہ شرعی زینت کا اہتمام کرنا۔
٭ملائکۂ رحمت کا انھیں ڈاھانپ لینا۔
٭ارکان نماز اور بہترین قراءت سیکھنے کی مشق کرنا۔
٭شعائر اسلام کا اظہار کرنا۔
٭عبادت کےلیے جمع ہوکر شیطان کو ذلیل خوار کرنا۔
٭صفتِ نفاق سے سلامت رہنا۔
٭ امام کے ساتھ سلام کا جواب دینا۔
٭اجتماعی طور پر ذکرو دعا میں مصروف ہونا۔
٭پانچ وقت نطم جماعت کو برقرار رکھنا۔
٭امام کی قراءت کو توجہ سے سننا۔
٭آمین بالجہرکہنا۔
یہ ستائیس خصلتیں ایسی ہیں کہ انفرادی طور پر ان کی فضیلتیں احادیث میں بیان ہوئی ہیں،اور یہ تمام خصلتیں نماز باجماعت کے اہتمام میں اجتماعی طور پر پائی جاتی ہیں۔
(فتح الباري: 174/2)
باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
فائدہ:
اس باب کا یہ مطلب نہیں کہ جماعت کے ساتھ نماز واجب نہیں، صرف فضیلت اور ثواب کا کام ہے، کیونکہ فضیلت صرف نفل یا مستحب ہی کی نہیں فرض کی ادائیگی کی بھی ہوتی ہے، بلکہ فرض کی ادائیگی نفل سے زیادہ فضیلت اور زیادہ رکھتی ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «مَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ» [بخاري: 6502] "میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔"
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 789]
فوائد و مسائل:
جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے پچیس نمازوں کا ثواب ملتا ہے یا ستائیس نمازوں کا؟ دونوں مفہوم کی احادیث مروی ہیں۔
اس کے بارے میں علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ اس کا تعلق نماز کی ادائیگی عمدہ ہونے خشوع و خضوع اور آداب و شرائط کے ساتھ ادا کرنے سے ہے۔
کسی کو پچیس گنا ثواب ملتا ہے اور کسی کو ستائیس گنا۔
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ پہلے اللہ تعالی نے پچیس گنا ثواب کا وعدہ فرمایا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے مطابق امت کو بتادیا۔
بعد میں اللہ تعالی نے ثواب میں اضافہ کرکے ستائیس گنا کردیا تو نبی ﷺ نی اس کے مطابق خبردے دی۔
واللہ اعلم۔
«. . . وبه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة . . .»
". . . سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جماعت کے ساتھ نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا افضل ہے . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 100]
تفقہ:
① فقہی فوائد کے لیے دیکھئے: [ح11]
② سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فرض نماز کے علاوہ تمہاری (نفل) نماز گھر میں افضل ہے۔ [الموطا 130/1 ح289 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " باجماعت نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے ستائیس گناہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ " اور بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " پچیس گنا زیادہ ثواب ملتا ہے۔ " اور بخاری میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس میں «جزء» کی جگہ «درجة» کا لفظ ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 314»
«أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:645، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:650 و حديث أبي هريرة أخرجه البخاري، الأذان، حديث:647، ومسلم، المساجد، حديث:651، وحديث أبي سعيد الخدري أخرجه البخاري، الأذان، حديث:646.»
تشریح: نماز باجماعت پڑھنا فرض اور واجب ہے یا سنت ِ مؤکدہ؟ اس میں اختلاف ہے۔
اس حدیث سے بظاہر ان حضرات کی تائید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نماز باجماعت پڑھنا فرض اور واجب نہیں کیونکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے میں مختلف اسباب کی وجہ سے درجات میں کمی و بیشی ہوتی ہے تو گویا منفرد کی بھی نماز ہوگئی‘ خواہ مراتب اور درجات کم ہی ہوں۔
اگر باجماعت نماز واجب ہوتی تو پھر منفرد کی نماز جائز ہی نہ ہوتی‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے‘ لہٰذا معلوم ہوا کہ نماز جماعت سے پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔
نماز باجماعت کی فرضیت اور اس کے وجوب کے قائلین کے نقطۂ نظر کے مطابق مذکورہ بالا استدلال کئی وجوہ کی بنا پر محل نظر ہے۔
ایک یہ کہ کسی چیز کی افضیلت کے ذکر سے اس چیز کی فرضیت اور وجوب کی نفی نہیں ہوتی۔
دوسرے یہ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی اس پر مواظبت اور ہمیشگی کی ہے۔
اور تیسرے یہ کہ نماز باجماعت میں سستی کرنے والوں کی بابت احادیث میں سخت وعیدیں مذکور ہیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو ان کے گھروں کے اندر ہی زندہ جلا دینے کا ارادہ فرمایا ہے‘ نیز بعض روایات میں تو بغیر کسی شرعی عذر کے اکیلے پڑھی گئی نماز کو فَلاَ صَلاَۃَ لَہُکہا گیا ہے۔
بنابریں راجح بات یہی لگتی ہے کہ نماز کی باجماعت ادائیگی ضروری ہے۔
ہاں‘ اگر کوئی معقول شرعی عذر ہو تو پھر بغیر جماعت کے اکیلے نماز پڑھنے والا بھی ماجور ہو گا۔
اور اس کے ذمہ سے یہ فرض ادا ہو جائے گا۔
لیکن بلاعذر جماعت چھوڑنے پر گناہ گار ہو گا۔
واللّٰہ أعلم۔