حدیث نمبر: 2148
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا ، وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ ، وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا ، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَهَذَا أَصَحُّ ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوخزامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں ، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں ، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے ، یہ زیادہ صحیح ہے ۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2148
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مضى (2066) // 359 / 2159 // , شیخ زبیر علی زئی: (2148) إسناده ضعيف / تقدم : 2065
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2065) (ضعیف)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2065 | سنن ابن ماجه: 3437 | مشكوة المصابيح: 97

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2065 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جھاڑ پھونک اور دوا سے علاج کا بیان۔`
ابوخزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! جس دم سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، جس دوا سے علاج کرتے ہیں اور جن بچاؤ کی چیزوں سے ہم اپنا بچاؤ کرتے ہیں (ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟) کیا یہ اللہ کی تقدیر میں کچھ تبدیلی کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ سب بھی اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی کا حصہ ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2065]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کی توفیق حسب تقدیر الٰہی ہوتی ہے، اس لیے اسباب کو اپنانا چاہیے، لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ ان سے تقدیر بدل جاتی ہے، کیوں کہ اللہ اپنے فیصلہ کو نہیں بدلتا۔

نوٹ:
(اس کی سند میں اضطراب ہے۔
یعنی ’’أبوخزامة، عن أبيه‘‘ یا ’’ابن أبي خزامة، عن أبيه‘‘ نیز ابوخزامہ تابعی ہیں یا صحابی؟، اگر ’’ابوخزامہ‘‘ تابعی ہیں تو ان کا حال معلوم نہیں، اگر یہ صحابی ہیں تو ان کے بیٹے ’’ابن أبی خزمہ‘‘ ہیں، تراجع الألبانی 344)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2065 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 97 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´انسان کو وہی توفیق ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا`
«. . . ‏‏‏‏وَعَن أبي خزامة عَن أَبِيه قَالَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَدَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَتُقَاةً نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا قَالَ: «هِيَ مِنْ قَدَرِ الله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه . . .»
. . . سیدنا ابوخزامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ فرمائیے جو ہم منتر جنتر کرتے، کرواتے ہیں اور علاج معالجہ کرتے ہیں اور جو ہم بچاؤ کی چیزیں رکھتے ہیں (جیسے سامان جنگ، بندوق، تیر و کمان، ڈھال وغیرہ) تو یہ سب چیزیں اللہ کی تقدیر کو پھیر سکتی ہیں، اور اللہ کا حکم لوٹا سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ اس حدیث کو احمد ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 97]
تخریج:
[سنن ترمذي 2065]

تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
ابوخزامہ کو امام ترمذی کے علاوہ کسی نے بھی ثقہ نہیں قرار دیا، چونکہ امام ترمذی تصحیح و تحسین میں متساہل تھے، لہٰذا جب تک کوئی دوسرے معتبر محدث ان کی تائید نہ کریں تو راوی مجہول یا مجروح ہی رہتا ہے۔ صورت مذکورہ میں ابوخزامہ مجہول الحال راوی ہے اور صحابی نہیں ہے۔ اگر اس روایت کو صحیح ثابت کر دیا جائے تو پھر یہ اہل سنت کی دلیل ہے کہ عقیدہ تقدیر برحق ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 97 سے ماخوذ ہے۔