حدیث نمبر: 2147
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، المعنى واحد ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي عَزَّةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَضَى اللَّهُ لِعَبْدٍ أَنْ يَمُوتَ بِأَرْضٍ ، جَعَلَ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً ، أَوْ قَالَ : بِهَا حَاجَةً " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو عَزَّةَ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَاسْمُهُ يَسَارُ بْنُ عَبْدٍ ، وَأَبُو الْمَلِيحِ اسْمُهُ عَامِرُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ ، وَيُقَالُ : زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوعزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث صحیح ہے ، ۲- ابوعزہ کو شرف صحبت حاصل ہے اور ان کا نام یسار بن عبد ہے ، ۳- راوی ابوملیح کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہذلی ہے ۔ انہیں زید بن اسامہ بھی کہا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2146)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11834) (صحیح)»